کالمز/بلاگز

او مائی گاڈ

تحریر : تجمّل حسین ہاشمی

الیکشن پر پیسے کا استعمال شکست پھر بھی مقدر ، ابو جی بیمار سیاست اپنا خواب ۔ او مائی گاڈ یقین پھر بھی پکا نہیں ۔ بابا کا عرس فیض یاب کوئی نہیں ،
دیگوں کی قطاریں پیٹ کسی کا بھرا نہیں ، ماں باپ کی قربانیاں اولاد سے صںلہ نہیں، کلمہ گو سب ،کامل یقین کوئی نہیں
رحمت سے امید نافرمانیاں کی انتہا نہیں ، حکمرانی کا جنون خدمات پر یقین نہیں، اختیار کے بعد بے شمار لوٹ مار ، مرنے پر بھی سیاسی چال بازیاں کوہسار مارکیٹ اور حکومتی فیصلے ، اپوزیشن کا کوئی حال نہیں حکومت خوش حال نہیں ، ملکی ترقی کی رفتار کسی کو معلوم نہیں
ترقی کے بادشاہ نعرے لگاتے ملک سے باہر ہیں اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں کبھی گرم کبھی سرد ۔ جیل میں موجود رہناموں کی ازادی کے بعد ایک مولاقات اور میڈیا کے غم کا
اعلان قیادت کی مان کر چلنے کا عھد۔ چوہدری نثار کی باتیں سچ ہوئی اور آج
مسّلم لیگ ن کے مخلص رہنماوں نے اپنی قیادت سے وطن واپسی کی درخوست کر دی مسّلم لیگ ن کی سیاسی حالت دیکھ کر جاوید ہاشمی کی قربانیں یاد آتی ہوں گی قیادت ہر دفعہ اگریمنٹ کر کے باہر چلی گی جاوید ہاشمی، ظفر الحق چوہدری نثار ، عباسی جی ، رانا ثناءاللہ احسن اقبال جیسے کئی لیڈروں نے مسّلم لیگ ن کی روح کو زندہ رکھا اور ان کو بدلے میں کیا ملا اس بات سے سب با خبر ہیں میاں برادران نے ہمیشہ سکون کو ترجیح دی ہے خود تو معاہدہ کر کے چلے جاتے ہیں اور پیچھے قیادت ان کا ڈیفنڈ کرتی ہے ووٹر کو متحرک رکھتے ہیں اور خود تنقید کا نشانہ بنتے ہیں تختہ پر ہونے کے بعد میاں برادران کو اپنے ان رہنمائوں کی کوئی قدر نہیں۔ جو سیاسی تنقید اور انتقام کا نشانہ بنے بہت سارے واقعات اخباروں کی زینت بنے مریم صفدر سے کون پوچھے گا کہ جموریت کے لیے کیا قربانی دی اس عوام کے لیے کب اسسمبلی میں قانون پاس کروا جس سے کسی غریب کو عزت کا تحفظ ملا ہو وارثیت کی سیاست پر یقین رکھنے والی ان سیاست جماعتوں سے عوام کا بھلا نہیں مولانا سمیع الحق نے ١٩٩٠ کو میاں صاحب کا ساتھ دیا اور ایک میڈیا ٹیکوں جو کہ آج کل نیب کی حرست میں ہے اس نے مولانا صاحب کی کردار کشی میں کوئی قصر نہیں چھوڑی مولانا تو اللہ‎ کو پیارے ہو گے سیاسی حریف بی بی شہید کی مخالفت میں تمام حدیں پار کر دی تھیں ابھی کی سن لو چند میہنے پہلے شاہد خاقان عباسی اپنی جماعت سے خفا تھے کیوں کہ جماعت نے ان کے حق میں اسسمبلی میں آواز نہیں اٹھی تھی مسّلم لیگ ن کی قیادت ایسی گرفت میں ہے جس کی اس کو سمجھ نہیں آ رہی اور تو اور آج مریم صفدر کہتی ہے کہ جو میرے لیڈر حکم دیں گے میں ان کے ساتھ کھڑی رہوں گی عباسی جی بھول گئے آل پارٹی کانفرنس میں اپنی قیادت مریم بی بی کے رویے آج وفد کی قیادت کی صورت میں کراچی کا وزٹ کیا اور ماضی میں اتحادی رہنے والی جماعت ایم کیوایم پاکستان کے ساتھ مولاقات کی اور میاں شہباز شریف کا پیغام دیا۔ ایم کیوایم پاکستان کے ساتھ رابطے بڑھانے میں مسّلم لیگ ن کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں یہ کسی سے چھپے ہوے نہیں ہیں ۔ ایم کیوایم پاکستان کا شروع سے ایک ہی اجنڈا رہا ہے انہوں نے عوامی خدمات کو ذاتی مفادات کے بدلے میں بچا ہے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے کراچی کی سٹک ہولڈر کو عوامی مقاصد میں نہیں اپنے ذاتی مقصد کے لیے استعمال کیا اور وہ سٹک ہولڈر ہر دفعہ عوام سے ووٹ لے کر دونوں جماعتیوں کے ساتھ سیاسی الحاق کرتی رہی اور اپنے ووٹر کو مختلف نعروں سے تسلی دیتی رہی آج کراچی شہر ان نعروں کے حساب کا منتظر ہے ایم کیو ایم پاکستان پیپلزپارٹی مسّلم لیگ ن اور پی ٹی آئی ان سب جماعتوں نے وعدے کیے لیکن حقیقی اقدام کوئی نہیں۔ سپریم کورٹ کے احکامات کو بھی عملی نہیں بنایا جا رہا کراچی کی عوام کے سامنے اب صرف مصطفیٰ کمال باقی نظر آتا ہے۔ اس کی سوچ اُن مہاجروں والی ہے جن لوگوں نے سب کھچ لوٹا کر بھی پاکستان بنایا اور اپنی تہذیب کو سلامت رکھا اور سلام ان دوسری زبان بولنے والوں کو جنہوں نے مہاجروں کو اپنا بھائی سمجھا اور اپنا دل میں جگہ دی آج مصطفیٰ کمال اپنے بزرگوں کی اس روایت اور تہذیب کو زندہ کر رہا ہے مصطفیٰ کمال کے اس عمل پر کراچی اور سندھ کی عوام کو سرہانہ چایے
پی ٹی آئی کو کراچی نے ووٹ دے کر موقہ دیا لیکن وہ بھی ناکام ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے کراچی شہر نے بڑے بڑے لوگوں کو پہچان دی اور وہ مال پانی بنا کر بیرون ملک بسیرا کر بیٹھے ہیں باقی ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں عوام کو باہر بیٹھ کر یقین دلایا رہے ہیں کہ ہم ہی ان کے دکھوں کا مداوا کریں گے ان الفاظوں کو عوام اچھی طرح سمجھ گی ہے ۔ انے والے چند سالوں میں پاکستان ایک نئی کروٹ لینے جا رہا ہے۔اس کروٹ میں سیاست صحافت اور اداروں میں ایک نئی تبدلی نظر اے گی
اس تبدلی کی بنیاد عمران خان کی حکومت سے شروع ہے ہر سیاسی فرد کو ایک ٹیسٹ سے گزار جا رہا ہے ڈاکٹر ظفر سے متعلق رپوٹ پر ایف آئی اے کی انکواری ایک قدم ہے اب پاس اور فیل کا نتیجہ پاکستان کی بہتری سے منسوب ہے ۔ پاکستان میں موجود سب جماعتوں میں ایک ریسائیکل پروسس جاری ہے تھوڑا وقت لگے گا بدلتا پاکستان نظر اے گا اور وارثیت والا سیاسی نظام دم توڑتا ہوا نظر آ رہا ہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close