کالمز/بلاگز

خواتین اور محکمہ پولیس

تحریر عبدالوحید جیلانی

محکمہ پولیس میں مرد پولیس اہلکاروں کے ساتھ لیڈی پولیس بھی کام کرتی ہے اور . . . . . . .
کسی موڑ پر مرد اہلکاروں سے کم نہیں
دلیری بہادری اور فرض کی ادائیگی کے کئی بہتر مشاہدات کا میں خود گواہ ہوں
ان دنوں سندھ پولیس میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو مد نظر رکھتے ہوئے اور چھاپوں کے دوران اکثر مقامات پر لیڈی پولیس نہ ہونے کی شکایات کو سامنے رکھتے ہوئے خواتین اہلکاروں کی بڑی تعداد کو بھرتی کیا گیا ہے جو مختلف مقامات پر اپنی زمہ دارایاں انجام دے رہی ہیں
. . . . . . . . . . . . . پولیس میں ملازمت کرنے والی خواتین پولیس افسر یا اہلکار ہم ہی میں سے ہیں اپنی ہی بہن بیٹیاں . . . . .
اور . . . .
میں نے بڑوں سے سنا ہے کہ ایک پولیس والے کی عزت ملکہ برطانیہ کے تاج سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے . . . .
میں نے گزشتہ دنوں کئی اضلاع اور کئی مقامات پر خواتین پولیس اہلکاروں کو عوامی مقامات پر دلیر اور اپنے ہی دفاتر یا ڈیوٹی والے مقامات پر سہما ہوا دیکھا. . . . . . . .
. . . جس طرح ایک مرد اہلکار کی ڈیوٹی کورنگی تھانہ میں اور رہائش منگھو پیر میں ہے اسی طرح لیڈی کانسٹیبل کے ساتھ ہے مرد اہلکار بائیک پر جا سکتا ہے خاتون اہلکار نہیں مرد اہلکار کوچ کی چھت دروازے پر سفر کر سکتا ہے خاتون کانسٹیبل نہیں
. . . خاتون جو پولیس کانسٹیبل کے بھی وہی مسائل ہیں جو مرد اہلکاروں کے ساتھ ہیں کسی کی ماں بیمار ہے کسی کا باپ نہیں کسی کا بھائی نہیں کسی کی چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اور وہ واحد کفیل . . . . .
خواتین پولیس اہلکار کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اسی طرح ڈیوٹی کررہی ہوتی ہیں جس طرح مرد اہلکار نہ دن دیکھتی ہیں نہ رات کومبنگ آپریشن ہو یا کسی دہشت گرد کی گرفتاری کے دوران مقابلہ یہ اسی طرح فرض کی ادائیگی ادا کررہی ہوتی ہیں جیسے مرد اہلکار بس افسران اور محکمہ پولیس کے جوانوں سے گزارش ہے کہ ان لیڈی کمانڈوز کا احترام کریں .
اور ہم مسلم مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے مذہب میں خواتین کا احترام لازم ہے
اور جس طرح مرد اہلکاروں کو اکثر مواقع پر افسران بالا یا متلعقہ انچارج سے شکایات ہو جاتی ہیں اسی طرح خواتین اہلکاروں کو بھی ہو سکتی ہیں. . . . . . . . . .

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close