کالمز/بلاگز

لاڈلہ سپرلیگ

تحریر : راجہ عمران

کرکٹ پاکستان میں وہ واحد کھیل ہے جو کراچی سے خیبر تک لوگوں کو ایک کردیتی ہے ۔پاکستان کی قومی کرکٹم جب کسی ٹیم کے مدمقابل ہوتی ہے تو شہر قائد کے سمندری علاقوں سے گلگت بلتستان کے کوہساروں تک لوگ اپنی ٹیم کے کامیابی کے لیے دعا گو ہوتے ہیں ۔اس وقت نہ کوئی پنجاب ہوتا ہے اور نہ ہی سندھی ،نہ کوئی پٹھان اور نہ کوئی بلوچ ،نہ کوئی سرائیکی اور نہ کوئی مہاجر ۔۔۔سب پاکستانی ہوتے ہیں اور یہی میرے پاکستان کا اصل چہرا ہے ۔آج کل ملک میں ایک مرتبہ کرکٹ کا بخار سرچڑھ کر بول رہا ہے ۔سکیورٹی اداروں اور عوام کی بیش بہا قربانیوں کے باعث آج ملک میں کھیلوں کے میدان پھر آباد ہوگئے ہیں ۔ابھی کچھ دنوں قبل ہی تو ہم بے کبڈی میں اپنی جیت کا شاندار جشن منایا ہے اور اب پی ایس ایل کے رنگ ہمارے میدانوں کو بکھرے ہوئے ہیں ۔پی ایس ایل پاکستان کی وہ تصویر ہے جسے ہم پوری دنیا کو دکھا سکتے ہیں ۔اس لیے مصور کو چاہیے کہ وہ اس کو شاہکار بنادے ۔ایسا شاہکار کہ جس کے سامنے ”مونا لیزا” کے مسکراہٹ ماند پڑتی نظر آئے ۔

پاکستان سپرلیگ کی افتتاحی تقریب کے حوالے سے پوری قوم کی طرح میں بھی بہت پرجوش تھا اور کیوں نہ ہوتا کہ آج میرے ملک کے حسین چہرے کو پوری دنیا کو دکھانے کا موقع ملا تھا ۔لیکن ہائے رے قسمت ۔۔۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے من پسند افراد کو نواز نے کے لیے ملک کے چہرے کو ہی داغدار کردیا ۔میرے ارمان اس بری طرح ٹوٹے کہ ان کی کرچیاں دور تک بکھر گئیں ۔یہ ایک قومی ایونٹ تھا جسے پی سی بی کی انتظامیہ نے اپنی نااہلی کے بھینٹ چڑھادیا ۔میرے خیال میں کسی بھی دکان کی خوبصورتی خریداروں سے ہوتی ہے اور اسی طرح اسٹیڈیم کی خوبصورتی شائقین سے ہوتی ہے لیکن منہ روز بے لگام پاکستان کرکٹ بوڈ انتظامیہ شائقین کو کھیل کے میدان کی طرف لانے میں ناکام ہوتی نظرا رہی ہے ۔افتتاحی تقریب کی جس بے ڈھنگے انداز میں میزبانی کی گئی اس کی بازگشت آپ سوشل میڈیا میں سن سکتے ہیں ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کو میڈیا سے اللہ جانے کیا بیر ہے ۔سوائے اپنے چند پسندیدہ لوگوں کے انہوںنے دیگر صحافیوںکو ”اچھوت” سمجھ لیا ہے ۔سنا ہے کہ پی سی بی کے میڈیا ڈائریکٹر سمیع برنی صاحب خود ایک صحافی رہ چکے ہیں ۔آئی سی سی میں کام کرنے کا تجربہ ہے لیکن شاید آئی سی سی کے تجربے نے انہیں صحافی سے بیورکریٹ بنادیا ہے اس لیے وہ پی سی بی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کو بھی کسی کسی سرکاری محکمے کے سیکرٹری کی طرح چلارہے ہیں ۔سمیع برنی صاحب سے بس اتنی گزارش ہے کہ پرانے دوستوں کو نوازنے کے لیے پی ایس یل کو استعمال نہ کریں ۔یہ پورے ملک کا ایونٹ ہے اس لیے کوریج کے لیے اسپورٹس سے منسلک تمام صحافیوں کی رسائی یقینی بنانے کااقدامات کریں ۔سوشل میڈیا پر پی سی بی کی افتتاحی تقریب کے حوالے سے انتہائی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں ۔میں ذاتی طور پر مبشر لقمان کو پسند نہیں کرتا لیکن سوشل میڈیا پر مبشر لقمان نے پی سی بی پر جو الزمات لگائے ہیں اگران میں کوئی حقیقت ہے تو پھر میں اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کی چھان بین کریں اور جو ان کے سہولت کار ہیں ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے انعقاد سے جہاں شہریوں کو مسرت ملی ہے وہیں ان کو مشکلات کا بھی سامنا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور اہلکاروں کو یہاں خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جو چوبیس چوبیس گھنٹے جاگ کر اس ایونٹ کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے جوانوں اور افسران کی انتھک محنت کو بھی سلیوٹ ہے لیکن پی سی بی کی جانب سے جو چیزیں سامنے آرہی ہیں وہ ناقابل برداشت ہیں ۔پی سی بی میں یقیناً اچھے لوگ بھی موجود ہیں ۔یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ معاملات کی نزاکت کو سمجھیں اور میڈیا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ”لاڈلوں” کا نوازنے کا سلسلہ بند کرائیں ۔پی سی بی سے گندے انڈوں سے پاک کرنا وقت کی ضرورت ہے ورنہ مستقبل میں پی ایس ایل ”ایل ایس ایل”(لاڈلہ سپرلیگ) میں تبدیل ہوجائے گی ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close