کالمز/بلاگز

قطار کا انتظار

سوچتا ہوں کہ کب تک عوام قطاروں میں کھڑی رہے گی کھچ سمجھ نہیں سکا لیکن جو سمجھ میں آیا وہ ہم جیسے فقیروں کی کون سنےگا قلم فروش کی تو ساتوں گھی میں ہیں اور باقی قلم والے ملک کے سیاسی رہنموں اور میڈیا مالکان کی ستم ظرفی کا شکار ہیں اور اگر کھچ زیادہ لکھ دو تو شائع ہونے پر بھی پابندی لازم ٹھری ۔ بڑے بڑے معاشیات دان ، نامہ نگار ،تجزیہ نگار وطن کی خدمات کے لیے دن رات حاضر ہیں لیکن ملک میں ہر حکومت کو ایک جیسی مشکلات در پیش ہیں جو آج عمران خان کی حکومت کو دار پش ہیں ۔ اٹے کے بحران میں پورا پاکستان قطار میں لگا ہوا ہے۔حکومتی موقف کے مطابق وطن عزیز کو گندم کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن اٹا مہنگائی کی بلند ترین سطح ہے اور نایاب بھی ہمارے وزیراعظم کو ملنے والی تنخواہ میں ان کا گزارہ نہیں مہنگائی کا ذکر بھی کیا لیکن مشکل وقت کو برداشت کا مشورہ بھی دیا روزے روشن کی طرح یہ بات بھی آیاں ہے کہ 15 ہزار کمانے والا شخص 10 کلو اٹا کے لیے لائن میں کھڑا ہے اگر لائن میں نہیں کھڑا رہے گا تو وہی اٹا اس کو 700 روپے میں خریدنا پڑے گا
معاشی ہدف ہمیشہ ملک میں 45 آئٹمز پر ٹیکس دینے والی عوام کی آمدنی سے سیٹ ہوتے ہیں لیکن اربوں کی منافع خوری سے عوام کو لوٹا جا رہا ہے اس کو کون روکے گا حکومت کے پاس سب اختیارات ہیں گندم کی کمی نا ہونے کے بعد بھی عوام لائنوں میں کیوں لگ رہی ہے یہی کام پچھلی حکومتوں میں بھی ہوتے رہے عوام نے پی ٹی ائی کو ووٹ اس نظام کی تبدیلی پر دیا تھا حکومت کے 18 ماہ گزارنے کے بعد بھی
آپ کو کہنی نا کہنی لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 2018 کے مقابلے میں 2019 کو زیادہ کرپٹ سال قرار دے دیا ہے لیکن رپوٹ کا انیلیسز کیا جاۓ تو پوری دنیا کرپشن کی روک تھام میں ناکام نظر ائی ہے پاکستان میں
حکومت کی نا اہلی اور کمیٹیوں کی ناقص کارگردگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحرانوں سے منافع خوروں کی چاندنی ہوئی ہے عمران خان
پر عوام کا بھروسہ ابھی تک قائم ہے اس بھروسہ کی اصل حقیقت پچھلے ادوار میں ھکومران کی کرپشن کی نا ختم ہونے والی داستانیں ہیں ان ناکام پالیسیوں کی وجہ سے عوام آج ظلم برداشت کر رہی ہے صدر صاحب نے اپنے بیان کی وضاحت دے کر معاملے کو ختم کیا جانوروں کے پنجرے سے لے کر گورمنٹ ہاؤسز میں محفلوں کے انقاد ملک کی ترقی نہیں تنزلی کاباعث بنتے ہیں عمران خان کے نظرے کو اس کی اپنی جماعت کے کبنیٹ ممبر داؤ پر لگا رہے ہیں کرپشن کا پرچار کرنے والی حکومت گندم چینی اور سی این جی جیسے بحران سے لا علم رہ کر خود منافع خوروں کی پشت پناہی کر رہی ہے بحرانوں سے حاصل مفادات میں شامل کوئی نئے لوگ نہیں یہ وہی لوگ ہیں جو کسی نا کسی شکل میں حکومت یا اپوزیشن میں رہنے والے لوگوں سے وابستہ ہیں عمران خان خود ان بحرانوں سے اچھے واقف ہیں لیکن بیروکریٹس کی بیروکریسی کنٹرول سے باہر ہے لیکن ایک بات بری واضح ہے جس کی وزیراعظم عمران خان نے بھی وضاحت کی ہے کہ میں کوئی اپنی اور اپنے رشتہ داروں کے لیے فیکٹریاں نہیں بنا رہا اور نا کوئی کاروبار کر رہا ہوں تاجر حکمران عوام کا قتل ہوتا ہے کیپٹلزم میں سرمایہ دار نے مزدور پر ظلم کیا اور اپنے منافع کو انسانیت پر ترجیح دی ہے اور ہمیشہ کارٹیل بنا کر چلتے ہیں کمزور حکومتیں ان کے ہاتھوں مجبور ہو جاتی ہیں اس وقت عمران خان کی حکومت کو کاروباری حضرت نے چکر دیا ہوا ہے حکومت کے 1 روپہ پڑھنے کے بعد تاجر حضرت مارکیٹ کو اپ داؤن کر کے 5 روپے تک لے جا رہے ہیں اس اقدام کی روک تھام کے لیے ہر منسٹری کو کام کی ضرورت ہے لیکن منسٹر حضرت کام کم میڈیا ٹاک شو پر اپنا وقت دے رہے ہیں عوام کو کوئی ایک تاریخ مل جاۓ کہ آپ نے دو سے چار سال تک لائن میں لگ کر ضرورت زندگی کی اشیاء خریدنی ہے اس کے بعد ایک پور سکون زندگی گزاریں گے۔ اس بات پر عوام عمران خان کے مشکور ہوں گی عوام نے تو قرضہ اتارو ملک سنوارو ڈیم فنڈ اور ہر قومی مشکل میں اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی رہی ہے لیکن اگر احساس نہیں تو ان جموری رہنماؤں کو نہیں جو سیاست کی آڑ میں ہر دفعہ عوام کو قربان کرتے ہیں مہنگائی کے طوفان نے اس دفعہ لائن میں کھڑے رہنے کی ہمت عوام کی ٹانگوں سے ختم کر دی ہے ٹماٹو پیاز آلو اور سبزیوں کی بڑتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے غریب کی زندگی مشکل ہے مرنے سے پہلے ایک تحریر حکومت کے نام لکھ کر احساس دلا رہے ہیں لیکن پھر بھی باپ کی خود کشی زینب کی موت کوئی نسوه اس احساس کو زندہ نا کر سکی
دراصل ان تمام مسائل کو حل کرنے کی بنیادی کوشش اسمبلی میں موجود سیاسی رہنموں کی ذمداری ہے جو آج تک ان کو محسوس نہیں ہوئی۔ 18 ویں ترمیم کے بعد بھی صوبائی حکومتوں اپنی عوام کے لیے کارگردگی نہیں دیکھا سکی اور عمران خان کی حکومت کے لیے بہت سارے بحران پیدا کیے گے ہیں جتنی بھی مشکلات ہیں ان سب میں حکومتی وزیروں کی نا اہلی اور دوسرا اپوزیشن میں موجود دو بری پارٹیاں ہیں جو کسی تیسری حکومت کو تسلیم نہیں کر رہی۔ اپوزیشن اور حکومت میں موجود وزیر زیادہ تر سرمایادار ہیں ان کی سوچ منافع کمانا تک ہے حکومت کے اتحادی بھی کسی حد تک سوچ میں ہیں کہ حکومت اپنا وقت پورا کرے گی یا پھر کسی دوسرے آپشن پر غور کریں ۔
حکومت ہر حال میں اپنی مدت پوری کرے گی اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنا وقت پورا کیا ہے تو پھر پی ٹی آئی کا بھی حق بجا ہے لیکن وزیراعظم بیوروکریسی کی کارگردگی سے مطمئن نہیں تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر پاک وہند میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو برطانیہ نے ہندوستان کو سالانہ 4 لاکھ پاؤنڈ اجارہ پر دی ہوئی تھی لیکن بیوروکریٹس کی اقراپروری کرپشن اور گروہ بندی کی وجہ سے وہ سالانہ 4 لاکھ پونڈ بھی ادا نہیں سکتے تھے ۔ 250 سال بعد بھی بیروکریسی کو کوئی کنٹرول نہیں کر سکا اور آج پاکستان کی منتخب حکومت اس کی وجہ سے پریشان ہے
نیا سال پاکستان کی معاشی حالت میں بہتری کی نوید ہے

کیا اس سال حکومت چوہدری نثار جیسے سیاستدانوں کے تجربے سے استفادہ کر پائے گی کیا ان قوانین کو تبدیل کرے گی جس سے عوام کا احتصال ہوتا

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close