قومینمایاں

احتساب عدالت نے خواجہ آصف کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

جمعرات 31 دسمبر کو خواجہ آصف کو آمدن سے زائد اثاثے کے الزام میں احتساب عدالت پیش کیا گیا۔ جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے گرفتاری کی گراؤنڈز ملزم کو دے دیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’جی دے دی ہیں‘۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ آصف 81 کروڑ 20 لاکھ کے اثاثوں کے مالک ہیں اور يہ انکی ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ 23 کروڑ کا فرق ہے۔
خواجہ آصف نے عدالت کو کہا کہ نیب کو کہیں کہ تاریخیں ہی درست کر لیں۔ اتنی بار ممبر پارلیمنٹ رہا اور صرف 81 کروڑ نکالا، پیسے تو کوئی زیادہ تلاش کرتے۔ خواجہ آصف کے بیان پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔
خواجہ آصف کا راہداری ریمانڈ منظور
گزشتہ روز اسلام آباد کی احتساب عدالت نے خواجہ محمد آصف کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ منظور کرتے ہوئے فوری متعلقہ عدالت پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے حکم دیا تھا کہ خواجہ آصف کو آج ہی لاہور منتقل کرکے کل تک متعلقہ عدالت پیش کیا جائے۔ اگر ممکن ہو توآج ورنہ کل تک لازمی متعلقہ عدالت پیش کریں۔
دوران سماعت خواجہ آصف کے وکیل جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ گرفتاری بنتی ہی نہیں خواجہ آصف کو رہا کریں، جس پر جج نے کہا کہ گرفتاری بنتی ہے یا نہیں یہ معاملہ لاہور کی متعلقہ عدالت ہی دیکھے گی۔ وکیل نے کہا کہ آپ کو بھی کیس کے حقائق دیکھ کر ریمانڈ دینا چاہیے۔
خواجہ آصف نے عدالت سے کہا کہ مجھے وارنٹس گرفتاری کی کاپی دی جائے اور گرفتاری کی وجوہات بھی دستخط شدہ فراہم کی جائیں۔ وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ خواجہ آصف کا راہداری ریمانڈ نہ دیں کیونکہ عدالت کے پاس اختیار ہے ابھی خواجہ آصف کو رہا کرے۔ انکوائری راولپنڈی میں شروع کرکے بدنیتی سے لاہور کیس منتقل کیا گیا۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close