قومینمایاں

مختلف شہروں میں 2 ہفتوں کے لئے تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کردیا

این سی او سی نے اسلام آباد،لاہور،پشاورکےتعلیمی ادارے 2 ہفتے کے لیے بندکرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرتعلیم شفقت محمود نے بتایا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں حالات تقریبا ٹھیک ہیں اور 50 فیصد بچے روز اسکول آیا کریں گے۔ اس دوران بچے ایس او پیز پر پابندی سے عمل کریں گے۔ تاہم پنجاب اور خیبرپختون خوا کے تعلیمی اداروں میں 15 مارچ سے موسم بہار کی چھٹیاں شروع ہونگی اور28مارچ تک تعلیمی ادارےبندرہیں گے۔

این سی او سی کا خصوصی اجلاس بدھ 10 مارچ کواسلام آباد میں ہوا۔اجلاس میں وفاقی وصوبائی وزرائے تعلیم، وزرائے صحت، آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان کے وزرائے تعلیم و صحت اعلی حکام شریک ہوئے۔
پنجاب کے جن شہروں میں تمام تعلیمی اداروں کو پیر سے 2 ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ان میں فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات، ملتان، راولپنڈی اور سیالکوٹ شامل ہیں۔اسلام آباد کے تمام تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔ پشاور کے تمام تعلیمی اداروں کو بھی موسم بہار کی تعطیلات کےلیے بند کردیا گیا ہے۔ تاہم اس دوران امتحانات جاری رہیں گےاورپابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔اجلاس سے قبل شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ابھی صورتحال ویسی نہیں جیسی نومبر اور دسمبر میں تھی البتہ کرونا کیسز میں ایک ہفتے کے دوران اضافہ ہوا ہے۔معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے تاہم اسمارٹ اورمائیکرولاک ڈاؤن ضرورت کےمطابق لگےگا۔ شادی ہالز اور سینما گھروں کےلیے ایس اوپیز15مارچ سے ختم نہیں ہورہی ہیں اور شادی ہالز اورریسٹورنٹس 15مارچ سےکھولنےکافیصلہ معطل کردیا گیا ہے۔ پارکس کو بھی شام 6 بجے بند کردیا جائےگا۔پیپلزپارٹی کے رہنما اور ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ماضی میں بھی اختلاف کےباوجود سندھ حکومت نے وفاق کےفیصلوں کو تسلیم کیا ہے۔کرونا وائرس کی جنگ میں سنجیدگی اور سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ انھوں نےکہا کہ جس طرح سے ویکسینیشن کرنےکی ضرورت تھی،اس طرح سے ویکسینیشن نہیں ہوئی ہے۔ویکسین کو جلد از جلد امپورٹ کرنےکی ضرورت ہے۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close