قومی

پولیس افسر کی بیک وقت دو تھانوں میں تقرری

کراچی میں ایک طرف تو اعلیٰ پولیس افسران کی کمیٹی کے انٹرویوز اور امتحانات پاس کرنے والے کافی پولیس افسران کئی ماہ سے ایس ایچ او لگنے کے منتظر ہیںِ دوسری طرف کراچی پولیس میں نووارد سفارشی پولیس افسر کو ایک ہی وقت میں دو اضلاع کے دو تھانوں میں ایس ایچ او تعینات کر دیا گیا۔

پولیس کے اس اقدام سے پولیس کی خوب جگ ہنسائی ہوئی تاہم پہلے تقرری کرنے والے ایس ایس پی نے اپنے احکامات منسوخ کر دیئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق گز شتہ دوپہر ایس ایس پی سینٹرل عارف اسلم راؤ نے معمول کے ایک حکم نامے کے ذریعے گلبرگ تھانے کے ایس ایچ او رافع خان تنولی کا تبادلہ کر کے ایک انسپیکٹر عمران آفریدی کو ایس ایچ او گلبرگ تعینات کر دیا۔

اس آرڈر کے تھوڑی دیر بعد ہی کراچی کے ضلع شرقی کے ایس ایس پی تنویر عالم اوڈو کی جانب سے بھی پولیس انسپکٹر عمران خان آفریدی کو ضلع شرقی کے جمشید کوارٹر تھانے میں ایس ایچ او تعینات کر دیا گیا، ایک ہی دن میں ایک پولیس انسپکٹر کے کراچی کے دو مختلف تھانوں میں بطور ایس ایچ او تقرر پر سوشل میڈیا پر کراچی پولیس کی خوب جگ ہنسائی ہوئی اور مختلف واٹس ایپ گروپس پر اس سلسلے میں کافی لے دے ہونے لگی۔

پولیس ذرائع کے مطابق نئے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن کی جانب سے انٹرویوز اور امتحانات پاس کرنے کے سلسلے کے بعد کلیئر پولیس افسران کا ایک پول قائم کردیا گیا تھا جس میں شامل پولیس افسران کو کراچی کے تینوں زون کے ساتوں ایس ایس پیز میں سے کوئی بھی اپنے تھانے میں ایس ایچ او تعینات کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور سلسلے میں کے پی او سے کوئی تحریری اجازت یا مشاورت کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔

پولیس ذرائع کے مطابق یہی خودمختاری ایک افسر کی بیک وقت دو تھانوں میں تقرری کا سبب بنی۔

کے پی او ذرائع کے مطابق آئیندہ ایسی غلطی سے بچنے کیلئے اس سلسلے میں ضابطہ بنا دیا گیا ہے۔

عمران خان آفریدی اب جمشید کوراٹر تھانے کے ایس ایچ او کے طور پر کام کررہے ہیں لیکن کوشش کے باوجود کراچی پولیس میں نووارد اس انسپکٹر کے لیے پولیس افسران کے انوکھے پروٹوکول کے پیچھے ’راز‘ کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close