میرا کراچینمایاں

کراچی کی مقامی عدالت میں سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ آج ہوگا

کراچی کی مقامی عدالت میں سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ آج(منگل)سنایاجائے گا۔11 ستمبر 2012 کراچی کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا،اس دن بلدیہ میں واقع ڈینم فیکٹری جل کر خاکستر ہوگئی۔ بھڑکتے شعلوں نے روزی کمانے کے غرض سے گھروں سے نکلنے والے سیکڑوں ملازمین کو زد میں لے لیا۔ ملازمین فیکٹری میں اپنے اپنے کام میں مصروف تھے کہ دن دیہاڑے ظالموں نے فیکٹری کو آگ لگادی۔ آگ پھیلنے سے فیکٹری میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس واقعے میں 259 افراد جھلس کر اور دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے تھے جبکہ تقریباً 50 افراد زخمی ہوئے تھے۔بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کو 8 برس ہو گئے۔ ابتدائی طور پر آتشزدگی کے اس واقعے کو حادثاتی قرار دیا گیا تھا لیکن بعد میں جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم نے اسے تخریب کاری قرار دیا اور تحریری رپورٹ میں یہ کہا تھا کہ بھتہ نہ ملنے پر فیکٹری میں آگ لگائی گئی تھی۔ مقدمے میں نامزد ملزم رحمان بھولا کو 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزم نے پہلے جرم کا اعتراف کیا پھر اپنے بیان سے منحرف ہو گیا۔ رحمان بھولا نے اعتراف کیاتھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی لیکن بعد میں رحمٰن بھولا نے عدالت میں بیان دیا کہ پولیس نے عدالت میں پیش کرکے اس سے زبردستی بیان دلوایا۔سال 2020 میں سانحے کی جے آئی ٹی بھی منظر عام پر آ گئی۔ جی آئی ٹی رپورٹ کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر ایک بڑے سانحے کے بجائے عام قتل کیس کی طرح درج کی گئی۔ دباؤ کے زیر اثر پولیس نے بلدیہ فیکٹری سانحے کے کیس کو جانبدارانہ انداز میں چلایا۔انسداد دہشت گردی عدالت نے 2 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا کیس میں ملزمان زبیر چریا اور عبدالرحمان بھولا کے خلاف 400 عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ بھی کیے گئے ہیں۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close