میرا کراچینمایاں

صوبہ سندھ کے ساتھ پانی معاملے پرناانصافیاں کی جارہی ہے

کراچی میں صوبائی وزیر محکمہ آبپاشی جام خان شورو نے کہا ہے کہ صوبے میں پانی چوری پر باضابطہ اور فوری ایکشن لینے کیلیے ایریگیشن فورس بنانے کے منصوبے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

ارسا کے قیام مقصد صوبوں کے مابین اپنے حصے کے پانی تقسیم کو منصفانہ طریقے سے فراہمی کویقینی بنانا تھا لیکن ارسا پانی معاہدے1991پر عمل درآمد کرانے میں ناکام ہوچکا ہے جبکہ صوبہ سندھ کے ساتھ پانی معاملے پرناانصافیاں کی جارہی ہے جس کے باعث صوبہ سندھ کو شدید پانی قلت کا سامنا ہے۔

 صوبائی وزیر آبپاشی نے کہا کہ گذشتہ سال ارسا کی جانب سے کہاگیاکہ ملک میں پانی کی شدید قلت ہے جبکہ ملک میں پانی کی قلت ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں اس کیلیے بھی فارمولا موجود ہے کہ کس طرح سے صوبوں کو برابری کے بنیاد پر پانی فراہم کرنا ہے۔

جام خان شورو نے بتایا کہ صوبے میں خریف کی سیزن اپریل کے مہینے میں شروع ہو جاتی ہیں لیکن خریف سیزن میں بھی ارسا نے صوبہ سندھ کو اپنے حصے کا پانی تاخیر سے آگست کے مہینے میں دیا جس کی باعث صوبہ سندھ کو مزید پانی قلت کا سامنا کرنا پڑا، اگر ارسا پانی بحران کے باوجود صوبوں کے مابین برابری کی بنیاد پر پانی تقسیم کرتا تو صوبہ سندھ کو دو ایم ایف زیادہ پانی حصے میں ملتا۔

انھوں نے کہا کہ ان کے محکمے نے ارسا کو سندھ میں شدید پانی قلت پر ایس او ایس کالز دی اور گذشتہ دن ایک خط بھی بھیجاکہ ٹی پی اور سی جے لنک کینالز کو فوری بند کیاجائے لیکن ارسا نے صوبہ سندھ کے پانی قلت کے مسائل کو حل نہیں کیا۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ جس طرح سے ارسا کی جانب سے ٹی پی اور سی جے لنک کینالز سے پانی چھوڑنا جا رہا ہے اس سے صوبے میں کھڑی فصلیں تباہ اور کینجھر جھیل میں پانی کی سطح کم ہونے کا خطرہ ہے جس سے کراچی کی شہریوں کو پینے کی پانی کی قلت بھی ہوسکتی ہے، ارسا کو صوبہ سندھ کو اپنے حصے کا پانی فوراً دینا چاہیے تاکہ صوبے میں کھڑی فصلوں کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close