کالمز/بلاگز

نشستم ، گفتم ، برخاستم

(تحریر: کامران چوہان)

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے کے مصداق گورنر سندھ سے تاجروں کی ملاقات کے بعد سندھ حکومت کو تاجروں کی یادآگئی – لاک ڈاون سے پریشان تاجروں نے 15 اپریل سے دوکانیں کھولنے کی دہمکی دی تو پہلے تاجروں کو ڈی آئی جی ساوتھ شرجیل کھرل نے بلالیااور پھر کمشنر کراچی ذوالفقار شالوانی اور ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے ملاقات کی اور فیصلہ دو روز موخر کرنے کو کہا-

مرتا کیا نہ کرتا ۔۔۔۔

تاجروں نے گھٹنے ٹیک دیئے مگر کچھ تاجر بضد تھے کہ تاجروں کو ایک گروپ سے وزیراعلیٰ سندھ نے ملاقات کی – ہمیں بھی اعتماد (لفٹ) میں لیا جائے- جس کے بعد
کمشنر کراچی نے حامی بھرلی اور وزیراعلی سے ایک سے دو روز میں ملاقات کرانے کی “لالی پاپ” تھما دی – ساتھ یہ تاکید بھی کی کہ جلد ازجلد ملاقات کیلئے تاجروں کی لسٹ بناکر کمشنر آفس بھجوادیں- ایسی یقین دہانی کے بعد تاجر پھولے نہیں سما رہے تھے- تاجروں نے لسٹ ارسال کردی اور انتظار کرنےلگے – وزیراعلی ہاوس سے ملاقات کا بلاوا تو نہیں مگر گورنر سندھ کی جانب سے “نیوتہ” آن پہنچا- تاجر گورنر ہاوس پہنچے گورنر سندھ سے ملاقات میں ان کی سنی اور کچھ اپنی بھی سنا ڈالی – پھر کیا تھا بات پھیلی ، خبریں چلنے لگیں تو سندھ سرکار بھی حرکت میں آگئی – وزیر تعلیم و محنت سعید غنی اور مشیر قانون و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بھی تاجر برادری کا اجلاس سندھ سیکرٹریٹ میں بلالیا- اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن، کمشنر کراچی ذوالفقار شلوانی،ڈی آئی جی ساوتھ شرجیل کھرل سمیت دیگرحکام شریک تھے -اجلاس میں جمیل پراچہ، عتیق میر، جاوید شمس، شرجیل گوپلانی، رضوان عرفان، شرجیل گوپلانی، سلیم میمن، ہارون چاند، حاجی ناصر ترک، کاشف صابرانی، اسماعیل لالپوریہ، حبیب شیخ، حکیم شاہ، شیخ ارشاد، شیخ خالد نور، یعقوب بالی، رفیق جدون سمیت دیگر تاجر شریک ہوئے- بات چیت تو بہت لمبی ہوئی مگر حل کچھ نہیں نکلا- المختصر تاجروں کو سمجھایا گیا کہ بھائیو ۔۔ “دوکانیں نہیں کھولنی”

18تاریخ کو تاجروں کو وزیراعلیٰ سندھ نے بلالیا ہے- مگر دکھائی یہی دیتا ہے کہ مراد علی شاہ بھی ایک بار پھر تاجروں کو “ہری جھنڈی” دکھا دیں گے-
شہر قائد کے تاجر ٹولیوں میں بٹ چکے ہیں اور ہر تنظیم، ایسوسی ایشن، الائنس، اتحاد، انجمن سرکار کے آگے اپنے اپنے مفادات کو مرنظر رکھتے ہوئے مطالبات رکھ دیتا ہے- ایسی صورتحال میں معاملہ سلجھتا دکھائی نہیں دیتا ہے- تاجروں کے آپسی رنجشوں کاخمیازہ تاجروں کو ہی اٹھانا پڑے گا- ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ تمام تاجر ون پوائنٹ “ایجنڈے” کرونا سے بچاو اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ مخصوص اوقات کیلئے دوکانیں کھولنے کامطالبہ صوبائی حکومت کے سامنے رکھتے مگرایسا نہیں ہوا- تاجروں کی آپسی رنجش اور چپقلیش کا نقصان خود انہیں،انکے کاروبارسے منسلک ملازمین کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی بھگتنا پڑ رہاہے- مجھے لگتا ہے کہ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی- تاجر برادری کو چاہیئے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی ذات سے بالاتر ہوکر سوچیں تو ضرور کوئی راستہ نکل آئے گا-

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close