سیاسی باتیںنمایاں

لاک ڈاؤن کے دوران شہریوں کو راشن ملے گا

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جاری لاک ڈاؤن کے دوران یومیہ اجرت اور دیگر مستحق افراد کی دیکھ بھال کے لئے انہیں مالی امداد یا راشن فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کا گھر کا چولہا جلتا رہے ۔ اس سلسلے میں ، انہوں نے فلاحی تنظیموں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یومیہ اجرت اور دیگر مستحق افراد کی مدد جو جاری لاک ڈاؤن کے دوران اپنی روزی روٹی کمانے کے وسائل کھو چکے ہیں کے لیے مشترکہ منصوبہ وضع کیا ہے ۔اجلاس میں ایدھی ٹرسٹ کے فیصل ایدھی ، رمضان چھیپا ، نئی زندگی کے شہزاد رائے، عالمگیر ٹرسٹ کے شکیل دہلوی ،جے ڈی سی فاؤنڈیشن کے ظفر عباس ، الخدمت فاؤنڈیشن کے قاضی صدرالدین ، میمن فائونڈیشن کے حنیف موٹلانی و دیگرنے شرکت کی جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کی معاونت صوبائی وزراء امتیاز شیخ ، ناصر شاہ ، سعید غنی (ویڈیو لنک) ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب ، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ ، آئی جی سندھ مشتاق مہر ، ہوم سیکرٹری عثمان چاچڑ اور پی ڈی ایم اے کے سلمان شاہ نے کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہیں یومیہ اجرت اور ان لوگوں کی جوکہ برگر ، فرائز اور چاٹ کے اسٹال لگا کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں کے بارے میں فکر مند ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں جس کے لئے ایک طریقہ کار تیار کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے فلاحی تنظیم کے ہر ایک سربراہ کے ساتھ راشن کی تقسیم کے طریقہ کار اور ضرورت مند لوگوں میں فنڈز کی فراہمی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ بیشتر منتظمین کا کہنا تھا کہ عوام کو 15 دن کے لیے راشن مہیا کیا جانا چاہیے۔ شرکاء میں سے کچھ کا خیال تھا کہ راشن کی تقسیم کافی مشکل کام ہے اور لوگ دوبارہ راشن لے کر آنے والی گاڑی کے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔شرکاء میں سے کچھ نے وزیراعلیٰ سندھ کو مشورہ دیا کہ وہ مستحق لوگوں میں نقد رقم بانٹ دیں تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق روز مرہ استعمال کی اشیاء وغیرہ خرید سکیں۔ محکمہ زکوٰۃ کے پاس 200000مستحق افراد میں گزارا الاؤنس تقسیم کرنے کے لیے ایک میکنزم پہلے ہی سے موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر توانائی امتیاز شیخ کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے امتیازشیخ کو شکارپور سے واپس بلایا ہے تاکہ وہ COVID-19 کے خلاف جنگ میں ان کا ہاتھ بٹائیں ۔ کمیٹی کے دیگر ممبران میں وزیراعلیٰ سندھ کے معاونین خصوصی وقار مہدی ، راشد ربانی اور وزیراعلیٰ سندھ کےسماجی شعبے سے متعلق کوآرڈینیٹر حارث گذدار شامل ہیں۔فلاحی تنظیموں کے ساتھ مشاورت سے یہ کمیٹی حتمی فیصلہ کرے گی کہ متاثرہ لوگوں کی امداد کیسے کی جائے چاہے وہ راشن کی صورت میں ہو یا نقد یا دونوں صورت میں ۔حکومت نے پہلے ہی ایک اپلیکیشن تشکیل دی ہے جس پر وہ لوگ جنہیں راشن کی ضرورت ہے وہ اپنا پیغام اس پر بھیج سکتے ہیں۔ اگر اپلیکیشن منظور ہوجاتی ہے تو پھر چار ڈیجٹ/ہندسوں پر مشتمل ایک ہیلپ لائن نمبر لوگوں کی اطلاع کے لیے مشتہر کیا جائے گاجس پر لوگ اپنے پیغامات بھیج سکیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمیٹی کے چیئرمین امتیاز شیخ کو ہدایت کی کہ وہ اگلے دو دن کے اندر اپنی سفارشات ترتیب دیں تاکہ عوام کی کم سے کم مدت میں مدد کی جاسکے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ڈویژنل انتظامیہ کو341 ملین روپے جاری کردیئے :
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےڈویژنل انتظامیہ کو آگے ضلعی انتظامیہ میں تقسیم کرنے کے لئے 341ملین روپے جاری کردیئے ہیں ۔ یہ رقم انتظامی کاموں اور دیگر علاقوں سے آنے والے زائرین کی دیکھ بھال پر خرچ ہونے والے اخراجات کی مد میں خرچ ہوگی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close