کالمز/بلاگز

لاک ڈاون اور بے لوث فلاحی تنظیمیں اور فنڈیڈ این جی اوز

ہر طرف کرونا کا خوف اور اس وباء کی وجہ سے پیدا ہونے والے بے شمارمسائل کے علاوہ چند اچھے پہلو بھی سامنے ابھر کر آئے، جہاں کرونالاک ڈاون کی وجہ سے عوام میں بنیادی ضروریات کی کمی سامنے آئی،غریب افراد کو راشن کے لالے پڑھ گئے، ایسے سنگین صورت حال میں پاکستانی قوم کے جوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت فلاحی کاموں میں جو کردار ادا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے، ان کا ذکر اگر نہ کیا جائے تو زیادتی ہوگی،پاکستان اور پاکستانی عوام دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتی ہے، جہاں خیرات اور رفاعی کاموں کو عبادت سمجھا جاتا ہے، دنیا اس بات کی معترف ہوچلی ہے،کہ پاکستان اور پاکستانی قوم مصیبت کے وقت دوسروں کی مدد میں سب سے آگے ہوتی ہے،قارئین آج میں ان موم بتی این جی اوز کا ذکر نہیں کرنا چاہتا، جو بیرونی فنڈنگ پر ایجنڈہ سیٹنگ کو فروغ دیتی ہیں، بلکہ ان عظیم لوگوں اور ان کے فلاحی کاموں اور اداروں پر تحریر کرنا چاہتا ہوں، جو بغیر کسی لالچ اور سستی شہرت کے،خاموشی سے اس کرونا وائرس اور لاک ڈاون کے وجہ سے متاثر عوام کی خاموشی سے مدد میں مصروف ہیں،جو عوام کواس موذی مرض سے بچاوکے آگاہی دینے میں مصروف ہیں، بڑے اداروں کا ذکر نہیں کررہا بلکہ وہ سینکڑوں فلاحی تنظیمیں جو اپنی مدد آپ مقامی سطح پر فعال ہیں،اور کچھ علاقوں میں اسے تاجروں،غریب پرور سرکاری افسران کا تعاون بھی حاصل ہے۔ قومیں اپنے محسن افراد اور معاونین کو یاد رکھتی ہیں،اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ان فلاحی اداروں میں،سرسو،ابدالی،اے وائی ڈی ایف، آل کراچی رائٹرفورم بیت الاسلام ٹرسٹ،اخوت،جیسے دیگرادارے جو میڈیا پر زیادہ مشہور نہیں ہیں، لیکن عوامی سطح پر لوگ جانتے ہیں،کہ ان فلاحی اداروں کے کارکنان کس طرح محنت کرکے مستحق افراد کے لئے اس لاک ڈاون میں راشن پہنچانے میں مصروف رہے، اور فوٹو سیشن پر کم سے کم توجہ دی،
ان فلاحی اداروں میں سے چند کا تذکرہ اس لئے کررہا ہوں کہ میں انہیں خود جانتا ہوں، ان کے علاوہ بھی بے شمار افراد نے کام کیا ہے، وہ سب خراج تحسین کے لائق ہیں، انہی میں سے ایک سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (ایس آر ایس او) ہے،جوسندھ کے 16 اضلاع کے 695 یونین کاؤنسلز میں کام کر رہی ہے جسکا کام سندھ حکومت کے ساتھ مل کر غربت کو کم کرنا ہے. اس تنظیم کے ڈسٹرکٹ مینجر خیرپور خادم حسین شر اور ضلع خیرپورٹیم میں خصوصی طور پر عابد حسین شر کا تذکرہ اگر نہ کیا جائے تو زیادتی ہوگی،انہوں نے اس لاک ڈاون کے دوران دن رات کام کیا اور غریب اور مستحق افراد،بیوا خواتین کو ضلعی سطح پر تلاش کرنے کے بعد انہیں راشن سمیت دیگر اشیاء فراہم کی۔تعلقہ اور ضلعی کی سطح پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے نامزد لوگوں کی تعداد 65غریبوں کو تنظیموں کی بچت سے 0.2773 ملین کیش دیے گئے،تنظیم کی بچت اور صاحب استطاعت لوگوں سے ملے 0.335 ملین غریبوں کو راشن کی مد میں دیے گئے.صابن 80 گھرانوں سینیٹائیزر 50 گھرانوں سرسو کی طرف سے خیرپور میں 37690 لوگوں کو احساس پروگرام میں رجسٹرڈ کروایا گیا، اسی طرح ہمارے کراچی کے سب سے بڑے ضلعے ملیر جو کہ رقبے کے حساب سے بڑا ہے، اور اس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ مختلف فیکٹریوں،کمپنیوں میں ملازمت کرتا ہے، حالیہ لاک ڈاون اور کرونا وبا کی وجہ سے روز کمانے والے مشکل میں پڑھ گئے، اسے میں ابدالی ویلفئیر سوسائٹی کے محمد شفیق، مولانا ولی اللہ ہزاروی،آل کراچی رائٹرزفورم کے شہر یار شوکت، اے وائی ڈی ایف کے سید فہد اپنے کارکنان اور ممبران کے ساتھ آگئے بڑھے، اور بن قاسم ٹاون کے مختلف علاقوں میں راشن باٹنے کا عمل شروع کیا،جیسے دیکھتے دیکھتے اور فلاحی ادارے بھی میدان میں آگئے،اور سفید پوشوں کی عزت بچ گئی، اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے،کس کس کا ذکر کرو، عمیر شاہد،قاری نسیم،مولانا ضیاء الرحمان، عبید الرحمان، مولاناعبدالباسط،امجد زرداری بہت سے نام ہیں، جنہوں نے بے لوث فلاحی کاموں میں عوام کی خدمت کی۔ دوسری جانب وہ ایجنڈہ سیٹنگ کی موم بتی این جی اوز ہیں جو کبھی عملی طور پر عوام کی مدد کے لئے میدان میں نہیں آئی، البتہ پاکستان میں عوام کو بدظن کرنے میں مصروف عمل تھی اور ہیں،پاکستان میں اکثر این جی اوز کیسے کام کرتی ہیں یہ بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے، کسی بھی بیوروکریٹ یا سیاستدان کی بیوی اپنے نام پر این جی او رجسٹرڈ کراتے ہیں، اور خود ڈائریکٹر بن جاتی ہے، ایسی این جی اوز عام طور پر پاکستان میں گھریلو خواتین پر تشدد اور چائلڈ ریپ جیسے موضوعات کو امریکہ یورپ میں موجود ڈونرز کے سامنے پیش کرتی ہیں وہاں من پسند اعدادوشمار دکھا کر لاکھوں ڈالرز امداد وصول کی جاتی ہے، اسلام آباد میں اپنے ہی گھر کو کاغذات میں آٹھ دس ہزار ڈالرز ماہانہ کرایہ پر شو کروا دیا جاتا ہے، اتنی ہی مقدار میں ڈائریکٹر کی ماہانہ تنخواہ اور اتنے ہی پیسے فرضی اور اصلی ملازمین کی تنخواہوں کے طور پر شو کر دیئے جاتے ہیں، خواتین گھریلو تشدد اور چائلڈ ریپ پر آگاہی مہم چلانے کیلئے اسلام آباد میں موجود فائیوسٹار ہوٹل میریٹ میں دو چار ہزار ڈالرز کا ائیرکنڈیشنڈ ہال بک کروا لیا جاتا ہے، وہاں ماروی سرمد جیسی بہت سی خواتین اپنے اپنے لیپ ٹاپس پر ایک دوسرے کو پاور پوائنٹ پریزنٹیشن دکھانا شروع کردیتی ہیں، اس سارے کام کی تصاویر اور فلمیں بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی جاتی ہیں، دور کہیں تھر کے علاقے میں کسی بچی سے ریپ ہونے کے واقعہ پر یہی طلاق یافتہ خواتین موم بتیاں لیکر اسلام آباد کی سڑکوں پر احتجاج شروع کردیتی ہیں اور امریکہ یورپ میں ڈونرز کو بیوقوف بنا کر پیسے لینے کیلئے ان سب شعبدہ بازیوں کی تصاویر اور فلمیں بھی سوشل میڈیا پر چڑھا دی جاتی ہیں، لاکھوں ڈالرز امداد کے طور پر پاکستان آتے ہیں اور پوری ایمانداری اور آڈٹ کے ساتھ اوپر بیان کیئے گئے فلاحی کاموں پر خرچ کردیئے جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ نوجوان ہیں جن کا پورے قصے میں کہیں نام بھی نہیں آتا، اور خاموشی سے اپنے علاقوں میں بے لوث خدمت کررہے ہیں، ذرا اس پہلو پر بھی سوچیں….

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close