ادھر اُدھر کینمایاں

لاک ڈاون نے تجارت اور معیشت کو تباہ کیا ہے۔ شرجیل گوپلانی

لاک ڈاون نے تجارت اور معیشت کو تباہ کیا ہے۔ شرجیل گوپلانی

رمضان کی آمد آمد ہے اور حکومت لاک ڈاون، لاک ڈاون کا کھیل کھیلنا چاہتی ہے۔صدر: آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن رجسٹرڈ

کراچی (پ ر) لاک ڈاون نے تجارت اور معیشت کو تباہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کے صدر شرجیل گوپلانی نے ایک پریس کانفرنس میں کیا جو ٹمبر مارکیٹ میں منعقد کی گئی تھی۔ اس پریس کا نفرنس میں مختلف کاروباری تاجروں‘ تاجر تنظیموں کے عہدیداران‘ عوام اور صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کے صدر شرجیل گوپلانی نے کہا کہ لاک ڈاو¿ن خصو صاً تاجروں کے لیے ایک بھیانک تجربہ ہے۔پچھلے لاک ڈاون میں جس طریقے سے معیشت اور تجارت کا جو حال ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور اس کے بعد آج آپ دیکھ لیں کہ شہر قائد میں ڈکیتیوں کا تناسب دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ہمارے بعد ہماری نسل کو نوکریاں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔حکومت کے پاس خزانہ خالی ہے‘ نہ وہ ہمیں کچھ دے سکتی ہے نہ وہ عوام کو کچھ دے سکتی ہے۔حکومت صرف ہم سے ٹیکس لے کے اپنے گھر اور اپنا پیٹ بھرتی ہے۔ہم نے حکومت سے پچھلی مرتبہ بلاسودی قرضے مانگے تھے جو کہ ہم قرض کی شکل میں مانگ رہے تھے لیکن حکومت نے نہ ہمیں قرضے دیے نہ ہماری کوئی داد رسی کی۔ بلکہ الٹا ٹیکس کی مد میںہم پہ سختیاں کر دیں۔سندھ گورنمنٹ نے جن ٹیکسوں میں ہمیں سہولت دینے کا کہا تھا انہوں نے اپنے تمام ٹیکسس وصول کیے اورآپ دیکھ لیں کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں جو انہوں سے لاگو کیا ہے جو سالانہ ٹیکس تھا وہ ماہانہ کردیا‘ ہم کسی چیز سے پیچھے نہیں ہٹے۔ہم نے اپنی تجارت بڑی مشکل سے سنبھالی ہے۔جو ہمارے ساتھ لوگ وابستہ تھے ہم نے اپنے طور پر معاملات سنبھالے۔ اب دوبارہ رمضان کی آمد آمد ہے اور حکومت لاک ڈاو¿ن، لاک ڈاو¿ن کا کھیل کھیلنا چاہتی ہے۔ہم حکومت سندھ اور وفاقی گورنمنٹ سے گزارش کرتے ہیں کہ اس طرف مت جائیں۔ اس سے بہت سے مسائل پیدا ہوں گے‘ بچے تعلیم سے پہلے ہی کا تعداد میں محروم ہوچکے ہیں‘ مزید تباہی ہوگی۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کورونا کی وجہ سے لگنے والی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان میں نو لاکھ تیس ہزار کے قریب بچوں نے تعلیم کو خیرباد کہہ دیا۔ ان میں سے ستر فیصد بچے آٹو مکینک اور مزدوری جبکہ تیس فیصد دینی مدارس میں چلے گئے۔ اس سال بھی لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے دس لاکھ کے قریب بچے تعلیم چھوڑ گئے تو ہمارا پورا معاشی ڈھانچہ تباہ ہوجائے گا جو کہ تعلیمی بنیادوں پر کھڑا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کورونا کی وجہ سے بہت سی اشیاءمارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں جیسے لکڑی جو ہمیں پوری دنیا سے نہیں مل رہی اس کی وجہ یہ ہے کہ جس وقت حکومت کی وجہ سے لاک ڈاو¿ن کیا گیا ہمیں معاشی طور پر ڈیملیج اور ڈیٹیشن کی مد میں شپنگ کمپنیوں نے اربوں روپے ہم سے لوٹے‘ ہم نے حکومت سے کہا کہ اس وقت شپنگ ایکٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں اربوں کا نقصان ہوا‘ اس وقت لکڑی جوکہ پہلے ہزار سے بارہ سو روپے فٹ کے حساب سے مل جاتی تھی مگر اب تین ہزار روپے میں بھی نہیں ملتی۔ کیونکہ مارکیٹ میں مال بھی نہیں ہے اور لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح چمڑے کی صنعت میں ریگزین اور چمڑے کی چپلیں بننے کا کام متاثر ہوا‘ اسی طرح لوہے کا ریٹ بھی پہلے سو روپے تھا مگر اب یہ ایک سو پچاسی تک پہنچ گیا ہے‘ مہنگائی کا ایک طوفان ہے جس کے لیے حکومتی اقدامات کچھ نہیں ہے۔ معاشی حالت جو پہلے ہی خراب تھی اب اگر لاک ڈاو¿ن ہوا تو کراچی کا تاجر بالکل تباہ ہوجائے گا۔ رمضان میں لوگ روزے کی وجہ سے دن میں نہیں نکلتے‘ وہ رات میں خریداری کرتے ہیں۔ لاک ڈاو¿ن کی خبریں سنتے ہیں کاروباری حضرات نے نیا مال خریدنا بند کردیا ہے جس سے کپڑے‘ چپل‘ برتن غرض ہر ایک کا کاروبار متاثر ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے کھیل کو بند کیا جائے‘ اس سے تاجر برادری کے ساتھ عوام بھی شدید متاثر ہوں گے۔ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ عوام اور تاجروں کے لیے ہمدردانہ طور پر سوچے۔ ہم چیف جسٹس سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں سوموٹو ایکشن لے کر حکومتی اقدامات پر غور کرے اور ہم سب کو کاروباری طور پر تباہ ہونے سے بچایا جائے۔ انہوں نے تاجر برادری سے بھی کہا کہ ممکن حد تک کورونا سے بچاو کی حفاظتی تدابیر پر عمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت پاکستان کے تیس فیصد تاجروں نے اپنے کاروباری نقصان کو اپنی جائیدادیں بیچ کر پورا کیا۔

اس پریس کانفرنس میں آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کے دیگر عہدیداران نے بھی اظہار خیال کیا۔ جن میں سید محمد سعید(سینئر نائب صدرآل سٹی تاجر اتحاد) زاہد امین(نائب صدرآل سٹی تاجر اتحاد) طارق ممتاز(نائب صدر سٹی تاجر اتحاد) فیصل جان کبیر(سینئر نائب صدرآل سٹی تاجر اتحاد) محمد زبیر علی خان(جوائنٹ سیکریٹری آل سٹی تاجر اتحاد) حسیب اخلاق، نوید میمن، چوہدری ایوب،عاطف شیخ،اسلم قریشی،حمید بادلہ،عبدالحمید بادلہ،فاروق گھانچی‘ عثمان صدیقی (فنانس سیکریٹری آل سٹی تاجر اتحاد) ظفر خان (کورنگی بچت بازار) آل کراچی ماربل ایسوسی ایشن کے سیف اللہ نیازی‘ محمد عدنان‘ صدر الائنس کے فہیم نوری وغیرہ شامل ہیں۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close