کالمز/بلاگز

او آئی سی، پاکستان سعودی عرب تعلقات اور منفی پروپیگنڈہ

گذشتہ روزاسلامی ممالک کی تعاون تنظیم (اوآئی سی)کے تحت کونسل برائے وزراء خارجہ(سی ایف ایم) کا 47واں اجلاس کا آغاز ہوچکا ہے،یہ اجلاس تین روز تک جاری رہے گا،اس اجلاس کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اس میں فلسطین کے حوالے سے امریکی منصوبے جیسے وہ ڈیل آف سینچری کہہ رہا ہے،اس پر بحث ہوگی، دوسری جانب مسئلہ کشمیر کی نازک صورت حال بھی زیربحث آئے گی،اور اس پر لائحہ عمل سامنے آئے گا،لیکن ایک مخصوص لابی اس اجلاس کو پہلے سے ناکام کرنے کے لئے سرگرم ہوچکی ہے،اور پروپیگنڈے کے ذریعے خراب کرنا چاہ رہی ہے،او آئی سی دنیا میں مسلم ممالک اور امت مسلمہ کا بلاشبہ سب سے بڑا فورم ہے، اور اس کے قیام میں ہر ملک کی خدمات شامل ہیں، لیکن سعودی عرب کا کردار اس میں بنیادی ہے، سعودی عرب نے اس فورم کے قیام کے لئے ہر قسم کی امداد کی، دفاتر قائم کئے، پروگرامات منعقد کئے، مسلم ممالک کی امداد کی،اور تاحال اس پر وہ سب سے زیادہ پیسہ خرچ کررہا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ آزاد فورم ہے، ہر ملک اپنے مسائل اور ضروریات کے بارے میں اس فورم پر آتا ہے، اور پھر ایک مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے فیصلے کئے جاتے ہیں، کسی کی اجارہ داری نہیں، ہر ملک کو مکمل اختیار ہے، لیکن اس کے باوجود کچھ افراد اور ادارے جان بوجھ کر اس ادارے اور سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف رہتے ہیں، ہر خبر کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں، تاکہ امت مسلمہ کا واحد بڑا اتحاد ٹوٹ سکے، دوریا ں پیدا کرسکے، اور دوسری بات اس تنظیم کے رکن ملک پاکستان کے تعلقات سعودی عرب سے ہمیشہ بہترین رہے ہیں، لیکن پاکستان میں موجود ایک لابی کی کوشش رہی ہے کہ کسی طرح پاک سعودی عرب تعلقات کو کمزور کیا جاسکے، دونوں ملکوں کے عوام میں دوریاں پیدا کی جائیں،
اسی کی ایک تازہ کوشش کی گئی ہے، ایک قومی اخبار کی خبر سامنے ہے،،جس میں کہا گیا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے کونسل برائے وزرائے خارجہ (سی ایف ایم) کی تیاری کے لیے جہاں سینئر حکام کا اجلاس 9 فروری سے شروع ہورہا ہے وہیں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، کشمیر کے معاملے پر فوری طور پر سی ایف ایم کا اجلاس بلانے کی پاکستان کی درخواست قبول کرنے سے گریزاں ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق او آئی سی کی جانب سے اجلاس طلب نہ کیے جانے پر پاکستان کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔ سعودی عرب نے سی ایف ایم سے بچنے کے لیے متعدد پیشکش کی ہیں جن میں مسلم ممالک کا پارلیمانی فورم یا اسپیکرز کانفرس شامل ہیں اور میڈیا ذرائع کے مطابق فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر مشترکہ اجلاس بھی اس میں شامل ہے۔
قارئین غور کریں دو ملکوں کے تعلقات کی خبر کو ذرائع پر ڈال کر ایک بار پھر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،کہ کسی طرح پروپیگنڈے کے طوفان میں دونوں ملکوں کے درمیان تلخی پیدا کی جائے،، اجلاس کا ایجنڈہ کیا ہے؟ اس میں کیا طے ہوگا، ابھی باقی ہے، اور سب سے ہم بات کہ پاکستان اس اسلامی فورم کا رکن ہے، وہ اپنی درخواست پیش کرے گا، اور اگر سعودی عرب مخالفت بھی کرے تو سامنے آجائے گا، او آئی سی ستاون ممالک کے تعاون تنظیم کا نام ہے، اور اس میں کسی ملک کو ویٹو کا حق حاصل نہیں، او آئی سی میں قراردیں متفقہ پاس ہوتی رہی ہیں، اور اس وقت دوسریااہم کوشش پاک سعودی تعلقات خراب کرنے کے ساتھ ساتھ اوآئی سی کو بے وقعت ثابت کرنا بھی ہے، تاکہ یہ تنظیم بکھر جائے، اور چھوٹے چھوٹے ادارے گروپ بن جائیں، غور کریں،یہ کس کی ضرورت ہے، کون چاہتا ہے، کہ فلسطین، کشمیر،عراق،شام،افغانستان کے مسائل پر امت مسلمہ تقسیم رہے اور مزید تقسیم ہوجائے،
ٓاو آئی سی امت مسلمہ کی پریشانیوں کا بغور جائزہ لیتی رہی ہے، اور اسلامی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے اور دراڑوں کو ختم کرنے کے لیے انتھک کاوشیں کرتی رہی ہے، اور ہمیشہ امت مسلمہ کے مسائل کے خاتمے کے لیے عالمی قوانین اور اسلامی سربراہی کانفرنسوں کی قراردودوں اور اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کی ملاقاتوں کے ذریعہ اسلامی تعاون تنظیم کے سائے میں منصفانہ حال تلاش کرتی رہی ہے، کیونکہ اسلامی تعاون تنظیم ہی کسی بھی اسلامی کانفرنس کا بنیادی حوالہ ہے، اس کے علاوہ ہمیشہ مشترکہ اور متحدہ اسلامی سوچ کی حمایت کی جو تفرقہ بازی کی سیاست سے دور ہو، تاکہ اسلامی یکجہتی کی طرف گامزن امت مسلمہ کی بہتر انداز میں خدمت کی جاسکے، جس میں مملکت سعودی عرب پیش پیش رہتی ہے تاکہ مشترکہ اسلامی مشن کو تقویت حاصل ہو سکے۔ جس کی بنیاد اسلامی تعاون تنظیم کے سائے میں اسلامی سربراہی کانفرنسوں اور اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کی قراردادیں ہیں، جن کا مقصد اسلامی یکجہتی کا فروغ ہے، اس کے علاوہ مملکت اس قرارداد کی مکمل پاسداری کرتی ہے جس پر اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک مکمل طور پر متفق ہوں، لہذا اس سے اسلامی یکجہتی کے بارے میں اور رکن ممالک کے درمیان مشاورتی عمل کو بڑھانے میں اور اجتماعی تزویراتی سوچ پر گامزن رہنے کے لیے مملکت کے ویژن کی گہرائی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جس کا اصل مقصد امت مسلمہ کے مسائل کا حل ہے، تاکہ امت مسلمہ ترقی کی جانب بڑھے اور موجودہ عالمی سیاسی منظرنامہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے بعد، اسلامی تعاون تنظیم دنیا کو دوسرا بڑا عالمی ادارہ تصور کیا جاتا ہے،۔
ا مت مسلمہ کے لئے بڑے اقدامات اور اہم کردار کی بدولت، مملکت سعودی عرب توازن کا محور ہے، بطور خاص ان بے شمار مسائل اور اختلافات حل کرنے کے سبب، اور ان کی راہ میں رکاوٹ بننے کے سبب جو اسلامی ممالک میں بالواسطہ یا بلا واسطہ دخل اندازی کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ مسلمانوں کی صفیں متحد رہیں اور ان کے درمیان اختلافات نہ پیدا ہوں،لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں موجود لابی کس کے اشارے پر وقتا فوقتا او آئی سی، سعودی عرب اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے عام کرنے کے لئے میدان میں آتی ہے؟ اس لابی کے مقاصد کیا ہیں؟ریاست ذرا اس پر بھی سوچے آخر یہ کون لوگ ہیں، جو کہ پاکستان کو دوستوں سے دور کرنا چاہتے ہیں،کون لوگ ہیں؟

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close