ادھر اُدھر کی

آرٹ فیسٹ کا چوتھا روز, شائقین کا رش, اسکول کے طلباء نے اپنے لائیو اسکیچز بنوائے

محکمہ ثقافت کی جانب سے سمبارا آرٹ گیلیری میں لگائی گئی آرٹ ایگزیبیشن “آرٹ فیسٹ کراچی” جاری ہے اور نمائش کے چوتھے روز شائقین کا رش رہا, اسکول طلبا کے گروپس نے سمبارا آرٹ گیلری کا رخ کیا اور رہاں نہ صرف شاہکار فن پارے دیکھے بلکہ وہاں موجود مصوروں سے اپنے لائیو اسکیچز بھی بنوائے.

ڈی جی کلچر عبدالعلیم لاشاری نے کہا کہ وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ کی خاص ہدایات پر منعقدہ آرٹ فیسٹ کے آج چوتھے روز بھی فن پاروں کی نمائش کے ساتھ ساتھ پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیا گیا جبکہ پانچ مصوروں کی جانب سے لائیو پینٹنگس بھی کی گئیں. انہوں نے بتایا کہ سحر شاہ، کامران علی دل, ہشام راہو, عبداللہ خاصخیلی اور طاہر حسین نے سمبارا آرٹ گیلیری کے لان میں سندھ کی ثقافت کی عکاسی کرتی مختلف پینٹگس بنائیں.

عبدالعلیم لاشاری نے کہا کہ نمائش کو دیکھنے کے لیے آنے والی فیمیلیز نے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور خاص طور پر آرٹسٹس کمیونٹی کو انتہا درجے کی خوشی ہوئی ہے کہ ان کے لیے سرکاری طور پر سمبارا آرٹ گیلیری کی شکل بہت بڑا پلیٹ فارم مہیا کیا گیا ہے جہاں مختلف اوقات میں مختلف آرٹسٹس کی سولو یا مشترکہ نمائشیں ہوتی رہیں گی.

آرٹ فیسٹ کراچی کے چوتھے روز آرٹسٹک فکر کا ارتقاء کے عنوان سے پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا. پینل کے مقررین عبدالجبار گل، شوکت کھوکھر، امجد ٹالپر اور عبدالمالک چنہ تھے, جبکہ نصرت خواجہ نے سیشن ماڈریٹ کیا. سیشن کے دوراں تمام مقررین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً سبھی نے اپنے کیریئر کی شروعات سینیما پینٹرز کے حیثیت سے کی اور پھر بعد میں نیشنل کالج آف آرٹس سے آرٹ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی. پینل کی گفتگو میں مقررین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ انہوں نے آرٹ کی تعلیم کو اپنے سماج میں کس طرح عملی جامہ پہنایا اور ان کی نظر میں آرٹسٹک فکر کا ارتقا کیسے ہو رہا ہے.

نمائش کے تیسرے روز پرفارمنس آرٹ ذریعہ اظہار کے عنوان سے ڈسکشن پینل منعقد ہوا جس کے ماڈریٹر نامور آرٹسٹ قدوس مرزا تھے جبکہ مقررین میں آرٹسٹس امین گل جی, محمد ذیشان, منیژے علی اور وحیدہ بلوچ تھے. انکا کہنا تھا کہ پرفارمنگ آرٹ اور پرفارمنس آرٹ میں بہت فرق ہے, کیونکہ پرفارمنگ آرٹ تفریح اور انٹرٹینمنٹ کے لیے ہوتا ہے جبکہ پرفارمنس آرٹ ضروری نہیں کہ انٹرٹینگ ہو, وہ آپ کو اداس بھی کرسکتا ہے اور آپ کے اندر سوچوں کا طوفان بھی برپا کرسکتا ہے. انہوں نے کہا کہ پرفارمنس آرٹ بنیادی طور پر سوسائٹی میں ڈائیلوگ کا آغاز کرتا ہے, سماج میں موجود سیاسی, سماجی یا اقتصادی معاملات کے بارے میں لوگوں میں سوچ و فکر اور بحث مباحثے کا ذریعہ بنتا ہے.

بعد ازاں سندھ میں نوجوان آرٹسٹس کے مسائل اور انکا حل کے عنوان سے منعقدہ پینل کو سحر شاہ نے ماڈریٹ کیا جس میں حاضرین میں شامل نوجوان آرٹسٹس نے اس شعبے سے متعلق درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی.

پینل سیشن کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل کلچر عبدالعلیم لاشاری اور ڈپٹی ڈائریکٹر ہدایت اللہ راجڑ نے مہمانوں کو اجرک کے تحائف پیش کیے.

نمائش کل (28 مارچ) تک جاری رہے گی اور اختتامی روز شرکاء کو سرٹیفکیٹس اور ایوارڈز بھی دیے جائیں گے جبکہ محفل موسیقی بھی منعقد کی جائے گی

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close