ادھر اُدھر کینمایاں

سندھ میں پی ٹی آئی اور اتحادیوں کی شوگر ملزہیں

سعید غنی نے کہا ہے کہ اس حکومت نے چینی کی قلت کےخاتمےکیلئےکوئی اقدام نہیں کیا۔

وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نےاگست سے نومبرتک چینی کی قلت کوختم کرنے کیلئے کیا اقدامات کیے؟

انہوں نے کہا کہ انکا ہروزیریہ ہی کہتا ہے کہ سندھ میں زرداری صاحب کی ملز ہیں ، زرداری صاحب کی سندھ میں کوئی بھی ملز نہیں ، ہمارے کھاتے میں اومنی گروپ کی مل ڈال دیتےہیں ، صوبائی حکومتیں ہی چینی کی قیمتیں مقرر کرتی ہیں۔

وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ میں آصف زرداری کی ایک بھی شوگر مل نہیں ہے ، پنجاب میں 35 لاکھ اور 46 ہزارٹن چینی کی پیداوار ہے ، صوبہ سندھ کی پیداوار ساڑھے 15لاکھ ٹن ہے ، سندھ میں چینی کی کمی کی ذمےداری کسی اورصوبےپرنہیں ڈالی جاسکتی۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں پی ٹی آئی اور اتحادیوں کی شوگر ملزضرورہیں ، ایک گروپ کی ملزکےاکاؤنٹس سپریم کورٹ کے حکم پر منجمد ہیں ، غنی مجید گروپ کی شوگرملزبند ہونےسے سندھ میں4لاکھ ٹن چینی کی قلت ہے ، ملک بھرمیں مہنگائی ہے ،پیٹرول مہنگاہوگیا اوربھی قیمتیں بڑھیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پورےملک میں پیٹرول بحران پیدا ہوتا ہے پھررات گئے قیمتوں میں اضافہ ہوتاہے ، وفاقی حکومت کس بات کی خوشخبریاں سناتی ہے ، شوگرملز نے حکومت کوخبردار کیاتھا کہ قلت پیداہوسکتی ہے ، عمران خان کی نااہلی کی سزا عوام کومل رہی ہے ۔

وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ  وزیراعظم نے تو سندھ حکومت کوچینی بحران کا ذمہ دار قراردیا مگر آٹا،چینی ،پیٹرول اورادویات مہنگی کرنےوالےعمران خان کے ساتھ ہیں۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close