کالمز/بلاگزنمایاں

سندھ پولیس میں خاموش انقلاب

تحریر (سید وقار علی)

پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جس پر سب سے ذیادہ تنقید کی جاتی رہی ہے جبکہ قیام امن اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کی اگر بات کی جاۓ توسندھ پولیس کے 7777 شہداء کی بے لوث قربانیوں کو کیونکر بھلا دیا جاتا ہے۔ ہم نے یہ پولیس کہیں سے درآمد تو نہیں کی ہے۔ ہماری ہی سوسائٹی کے ہمارے بیٹے ہمارے بھائ ہی تو ہیں۔
وسائل کی کمی سیاسی و ادارتی مداخلت عوامی عدم تعاون اور دیگر کئی محرکات کے باوجود اگر ملک میں معاشی سرگرمیاں جاری ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں سکون سے سو رہے ہیں۔ ایک خاتون جب اپنے گھر سے باہر نکلتے وقت اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہی ہے تو آپ کی پولیس ہی تو ہے جوآپکو احساسِ تحفظ دیتی ہے۔
ایسا نہیں ہوسکتا ہے کے پولیس ہر کسی کو مطمئن کرے جب دو لوگوں میں معاملہ ہوتا ہے اور وہ پولیس کے پاس آتے ہیں تو یقینا دونوں پارٹی پولیس سے مطمئن نہیں ہوسکتی۔ بحرحال پچھلے ایک دہائی میں پولیس میں رونما ہونے والے ایک خاموش انقلاب نے پولیس اور عوام کو بہت قریب کر دیا ہے لوگوں کا پولیس پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
اس خاموش انقلاب کے پیچھے پولیس کے ایماندار اور قابل افسران کی دور اندیش پالیسی اور جدوجہد شامل ہیں جسکا آغازمیرٹ پر تقرریاں ہیں۔ الحمدللہ اب یہ بات ہرایک شخص جانتا ہے اور مانتا ہے کہ پولیس میں کسی سفارش، رشوت یا اثررسوخ کی بنیاد پراب نوکری نہیں ملتی، متعینہ تعلیمی معیار تحریری و جسمانی امتحانات کے بعد ہی تقرری عمل میں آتی ہے۔ اس اقدام کا ثمر یہ ملا کہ پولیس میں قابل اور ہونہار افسران و جوان بھرتی ہوئے ہیں
اس خاموش انقلاب کا ایک محرک 2012 میں آئی ٹی برانچ کا قیام ہے۔ جس میں میرٹ ہی پر بھرتی ہونے والے افسران و جوان کام کر رہے ہیں۔ اس برانچ کے قیام کے بعد مرحلہ وار انقلابی تبدیلیا ں رونما ہوئی ہیں، جن میں آن لائن عوامی شکایات، پولیس ریکارڈ و دیگر سہولیات کا میسر آنا ہے جہاں عوام کو اِدھر ادھر بھاگنے کے بجائے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا گیا۔

اس سلسلے میں سندھ پولیس نے عوام کی سہولت کے دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق مختلف سافٹ وئیر کا اجراء کیا جن سے عوام مستفید بھی ہورہے ہیں اور عوام کا پولیس پر اعتماد بھی بڑھ رہا ہے۔
ان میں سے کچھ سافٹ وئیر کی تفصیل یہ ہے
PSRMS
*پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینیجمنٹ سسٹم*
یہ سافٹ وئیر2018 میں بنایا گیا تھا اس میں پولیس کے تمام رجسٹر بشمول ایف آئی آر، روزنامچہ وغیرہ کا اندراج اردو میں ہوتا ہے اور عوام کو فوری کمپیوٹرائزڈ کاپی مہیا کی جاتی ہے۔
CRMS
*کریمنل ریکارڈ مینیجمنٹ سسٹم*
اس سافٹ وئیڑ میں کریمنل کا ریکارڈ اپڈیٹ کیا جاتا ہے اور انکی تصاویر، فنگر پرنٹ بمعہ پام اسکیننگ کی جاتی ہے۔
PFS
*پبلک فیسیلیٹیشن سسٹم*
اس میں دو مختلف سافٹ وئیر ہیں ایک پی ایف سی جس میں لوسٹ ایند فاؤنڈ کاغذات اور گمشدکی کا اندراج کیا جاتا ہے اور ایک ٹیننٹ رجسٹریشن جسمیں کرایہ داری کا اندراج ہوتا ہے اور کرایہ دارکو تھانہ آکر تصویر بنواکر اپڈیٹ کروانا پڑتا ہے اور روم میٹ کے بارے میں اندراج کرنا پڑتا ہے
ERS
*ایمپلائی رجسٹریشن سسٹم*
اس سافٹ وئیر میں کمپنی اور فرم کے تمام ملازمین کا اندراج کیا جاتا ہے
PRVS
*پولیس ریکارڈ ویریفیکیشن سسٹم*
اس میں بیرون ملک جانے والے افراد کا ریکارڈ چیک کیا جاتا ہے جسکا سرٹیفیکٹ زونل اینٹیلیجنس برانچ سے حاصل کیا جاسکتا ہے
HRMS
*ہومن ریسورس مینیجمنٹ سسٹم*
اس میں پولیس افسران و ملازمان کا ڈیٹا ریکارڈ کیا جاتا ہے اور یہ سسٹم ان کے سزا و ریوارڈ کا ریکارڈ بھی رکھتا ہے اسمیں انکی ٹرانسفر پوسٹنگ کا ریکارڈ بھی ہوتا ہے
CFMSDC
*کیس فلو مینجمنٹ سسٹم*
یہ ایک ہائی کورٹ کی ویبسائیٹ ہے جسمیں آنلائن کیسیس کا اندراج کیا جاتا ہے
HOTEL EYE
*ہوٹل آئی*
پولیس کے تمام سافٹ وئیر اس سافٹ وئیر سے لنکڈ ہیں کسی بھی صورت میں ملزم سندھ کے کسی ہوٹل میں قیام کرتا ہے تو اسکا ایک نوٹی فیکیشن جنریٹ ہوتا ہے اس طرح ملزم کی شناخت ہوسکتی ہے
CRI
*کریمنل ریکارڈ آڈینٹیفیکیشن*
یہ ایک ڈیوائس ہے جو کہ تھانہ میں موجود ہوتی ہے اس کی مدد سے تھانہ میں آنے والے کسی بھی مشکوک شخص کا کریمنل ریکارڈ معلوم کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح دیگر امور پر بھی سندھ پولیس آئی ٹی برانچ کام کر رہی ہے اور دورِ حاضر کے جدید ٹیکنالوجی کو بھی بروئے کار لاکر پولیسنگ کے معیار کو بہتر کیا جارہا ہے۔ امید ہے کہ سندھ پولیس آنے والے ادوار میں مزید بہتر خطوط پر استوار ہوکر عوامی امنگو پر اترنے کے ساتھ ساتھ دنیا کی بہترین پولیس میں شمار ہوگی۔

*نہیں ہے نہ امید اقبال اپنے کشتِ ویراں سے*
*ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی*

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close