ادھر اُدھر کی

انڈونیشیا کی سڑکوں پر ’’چاندی کے بھکاریوں‘‘ کا راج

پچھلے ایک سال سے انڈونیشیا کے کئی شہروں کی گلی کوچوں میں اور شاہراہوں پر چاندی جیسی رنگت والے بھکاری جا بجا نظر آنے لگے ہیں اور اپنی اسی ہیئت کذائی کی بناء پر وہ مقامی لوگوں اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

مقامی زبان میں انہیں ’’منوسیا سلور‘‘ یعنی چاندی کا آدمی کہا جاتا ہے۔ یہ تو نہیں معلوم کہ بھیک مانگنے کےلیے خود کو چاندی کے رنگ میں رنگنے کا سلسلہ کس نے شروع کیا لیکن انڈونیشیا کے بھکاریوں میں یہ رجحان بہت تیزی سے مقبول ہوا ہے۔

اس بارے میں بھکاریوں کا کہنا ہے کہ وہ بازار میں عام ملنے والا سلور اسپرے اپنے پورے جسم پر کرنے کے بعد ہاتھ میں بھیک کا پیالہ یا ڈبا لے کر نکل جاتے ہیں۔ منفرد رنگت کی وجہ سے لوگ دُور ہی سے انہیں پہچان جاتے ہیں اور یوں انہیں دوسرے بھکاریوں کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے بھیک مل جاتی ہے اور انہیں بھیک مانگنے کےلیے صدائیں لگانی نہیں پڑتیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close