Uncategorizedسیاسی باتیںنمایاں

حق دو کراچی ریلی کی تیاریاں مکمل، سراج الحق،حافظ نعیم الرحمن اور دیگر رہنما خطاب کریں گے

جماعت اسلامی کے تحت شہر قائد کے سلگتے اور گھمبیر مسائل کے حل اور تین کروڑ سے زائد شہریوں کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے جاری ”حقوق کراچی تحریک“کے سلسلے میں اتوار 28مارچ کو شاہراہ فیصل پر قائد آباد تا گورنر ہاؤس ”حق دو کراچی ریلی“کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور تمام انتظامات کوحتمی شکل دیدی گئی ہے،ریلی کا آغاز2بجے دن ہوگا،شاہراہ فیصل پر متعددمقامات پر استقبالیہ کیمپ قائم کئے گئے ہیں،مسجد رومی سوسائٹی پر قائدین کا ابتدائی خطاب ہوگا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق خصوصی طور پرخطاب کریں گے،امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن گورنر ہاؤس پر اپنے خطاب میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے،امراء اضلاع کی قیادت میں شہر بھر سے جلوس ریلی میں شریک ہوں گے،ریلی میں نوجوان،بزرگ،طلبہ و اساتذہ،محنت کش اور مزدوروں سمیت شہر کے ہر طبقے اور زبان بولنے والے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوں گے جس کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں او رانتظامات کئے گئے ہیں،اہل کراچی اپنی حق تلفی وفاقی و صوبائی حکومتوں اور حکمران پارٹیوں کے خلاف اور اپنے جائز اور قانونی حقوق کے لیے بھرپور طاقت و قوت کا مظاہرہ کریں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاہے کہ 28مارچ کو شاہراہ فیصل پر اہل کراچی اعلان کریں گے کہ اب کراچی خاموش نہیں رہے گا، بولے گا اور اپنا حق وصول کرے گا، حق دو کراچی ریلی صرف کوئی سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ یہ تین کروڑ عوام کے جائز اور قانونی حق کے لیے ہے۔ حقوق کراچی تحریک اہل کراچی کا مستقبل برباد کرنے والوں کے خلاف ہے اور ان سے اپنا حق لینے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔ 28مارچ کو اہل کراچی کی آواز پورے ملک میں پہنچے گی اور عوام حکمران پارٹیوں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سے سوال کریں گے کہ ان کی آدھی آبادی کیوں غائب کی گئی؟ کوٹہ سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافہ کر کے نوجوانوں کے مستقبل کو کیوں تاریک کیا جا رہا ہے؟ کراچی کے مینڈیٹ کو کیوں فروخت کیا جا تا ہے؟ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے جعلی اور متنازعہ مردم شماری کی منظوری کیوں دی؟ تینوں حکمران پارٹیوں پر مشتمل ٹرانسفارمیشن کمیٹی نے 7ماہ میں کیا کیا اور 11سو ارب روپے میں سے کتنی رقم کہاں خرچ کی؟ شیخ رشید نے سرکلر ریلوے کو اصل حالت میں بحال کرنے کے بجائے عوام کو دھوکہ کیوں دیا؟ کراچی میں سڑکیں کیوں نہیں بن رہی ہیں؟ بجلی، پانی، سیوریج، صفائی ستھرائی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل آخر کب حل ہوں گے؟ کیا اہل کراچی کے لیے صرف چنگ چی رکشے ہی رہ گئے ہیں؟ ماؤں کو با عزت اور بہتر ٹرانسپورٹ کی سہولت کیوں میسر نہیں؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ناظم آباد گول مارکیٹ کے قریب ایک بڑی کارنر میٹنگ سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے عوامی رابطہ مہم اور حق دو کراچی ریلی کے سلسلے میں ضلع وسطی اور ضلع گلبرگ کا دورہ کیا،متعدد مقامات پر عوامی اجتماعات اور کارنر میٹنگز سے خطاب کیا،مارکیٹوں اور بازاروں میں دوکانداروں،سبزی و پھل فروشوں اور عام شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کو ریلی میں شرکت کی دعوت دی۔ اس موقع پر ضلع گلبرگ کے امیر فاروق نعمت اللہ اور ضلع وسطی کے امیر وجیہہ حسن بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی عوام کی خدمت کی ہے اور مستقبل بھی جماعت اسلامی کی ہی قیادت سنوار سکتی ہے۔ عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کے مثالی ادوار میں ہی کراچی کی تعمیر و ترقی ہوئی۔ نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کا دوسری مرتبہ سٹی ناظم بننے کا راستہ نہ روکا جاتا تو آج کراچی کی یہ ابتر حالت ہر گز نہیں ہوتی۔مصطفےٰ کمال کے دور میں نعمت اللہ خان کے منصوبوں اور پروجیکٹ کو مکمل نہیں ہونے دیا گیا۔ 4سال وسیم اختر بھی میئر رہے، گزشتہ 16سال میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کراچی کے لیے پانی کا کوئی منصوبہ نہ لا سکیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، بلاول بھٹو اور آصف زرداری سے بھی کہتے ہیں کہ کراچی کو محروم اور نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش اور آئینی و جمہوری طریقے اختیار کرے گی۔ دریں اثناء حق دو کراچی ریلی کے سلسلے میں ہفتے کے روز بھی رات گئے تک سرگرمیاں جاری رہیں،شہر بھر میں قائم استقبالیہ کیمپوں میں زبردست گہما گہمی رہی۔ ”حق دو کراچی مہم“کے سلسلے میں تیار کئے گئے خصوصی ترانے چلتے رہے او رعام شہریوں کو ریلی میں شرکت کی دعوت دی گئی،ہزاروں کی تعداد میں مزید ہینڈبلز تقسیم کئے گئے،موبائل پبلسٹی کے لیے تیار کی گئی خصوصی گاڑیاں اور ٹرک شہر کی اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر گشت کرتے رہے،رہائشی علاقوں اور گلیوں میں سوزوکیوں پر لاؤڈ اسپیکرز اور میگا فونز کے ذریعے اعلانات اور شرکت کی دعوت دینے کا سلسلہ جاری رہا۔جے آئی یوتھ کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کی چھوٹی بڑی ریلیاں نکالی گئیں،کارکنان اور ذمہ داران ملاقاتیں اور رابطے کرتے رہے،عوام کے اندر زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا،جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک اور حق دو کراچی ریلی کو بھرپور انداز میں سراہا گیا اور شرکت پر آمادگی ظاہر کی گئی۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close