کالمز/بلاگز

قائد اعظم اور بین اقوامی تعلقات

تحریر :طارق احمد گیساوت

محمد علی جناح ایک ماہر قانون دان ہی نہیں بلکہ دوراندیش فکر ی سوچ رکھنے والے سیاست دان تھے۔ آپ کی مستقل مزاجی نے آپ کو جناح سے قائد اعظم ہونے کا اعزاز دلایا ۔آپ نے ہمیشہ ایمانداری سچائی اور قوم کو متحد رہنے کی تلقین کی اور ساتھ پاکستانی عوام کو اپنا قومی تشخص برقرار رکھنے اور دشمنوں کے ناپاک عزائم سے بچنے کے لیے ہمیشہ آنکھ کھلی رکھنے پر زور دیا۔قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم کی تقاریر کو بغور سنا جائے تو پیغام قومی یکجہتی اور ملک کی تعمیری سوچ کا ہی ملتا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں قوم کے ہر فرد کو ملک و قوم کی خدمت کی ذمےداری کا احساس دلایا ہے۔وطن عزیز کے حصول کے بعد قائد کی تمام تر توجہ قوم کی تربیت اور ِپاکستان کو دنیا میں اہم مقام دلانے پر مرکوز تھی ۔ آزادی کے بعد ملک کو مربوط و منظم کرنے کے لیے جہاں اداروں کو قائم کیا جا رہاتھا وہیں دنیا میں دیگر ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم کیے جا رہے تھے اور ساتھ ہی پیشتر ممالک سےنوزائیدہ ریاست پاکستان کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا خیر مقدم بھی کیا جا رہاتھا اس سلسلے میں ترکی ،مصر ، ایران ، امریکا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک کے سفرا کی قائد اعظم سے مقالات ہوئیں اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے آئندہ کے لائحہ عمل اور دیگر آزاد ریاستوں سے تعلقات سے متعلق آگا ہ کیا ۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے26 فروری 1948 کوامریکا کی جانب سے اسناد سفارت پیش کرنے کہ موقع پر امریکا کے پہلے سفیر سے کہا کہ “آپ کی حکومت نے ہماری اس نئی مملکت کے قیام کے روز ہی تعلقات قائم کرکے دوستی اور ہمدردی کی گواہی دی ہے ۔ہمیں نئی مملکت کی حیثیت سے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم آزاد اور امن پسند قوم کی حیثیت سے اپنے مقاصد پورے کر لیں گے ۔ہم آزاد ممالک سے خیر سگالی اور دوستی سوا کسی اور چیز کے طالب نہیں ہیں ۔ہم یہ طے کر چکے ہیں کہ آزادی پالینے کے بعد نہ صرف اپنی مملکت کو مضبوط کریں گے بلکہ بیرونی دنیا سے اقتصادی اور ثقافتی معاملات بہتر بنائیں ۔ پاکستان قومی اور بین الاقوامی معاملات میں دیانت داری اور اصولی طریقہ کار پر یقین رکھتا ہے ۔ہمارا مقصد تمام ممالک سے باہمی دوستی اور برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا ہے ۔ ہم کسی ملک کے خلاف نا پسندیدہ عزائم نہیں رکھتے اور نہ ہی اس بات پر یقین رکھتے ہیں البتہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق مظلوم اقوام کی حمایت اور مددسے کبھی گریز نہیں کرے گا “۔
قیام پاکستان کے فوراََ بعد قائد اعظم نے یہ موقف پیش کردیا تھا کہ ہم پاکستانی بحیثیت آزاد ریاست اقوام عالم سے ایسے دوستانہ ، تجارتی اور باہمی امور کے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں جن کے دور رس نتائج ہوں اور ساتھ یہ عندیہ بھی دیا کہ قومی و ملکی وقار کا سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جائے گا ۔
27 اگست 1948 میں عید کے موقع پر پاکستان کے پہلے گورنر جنرل نے قوم و مسلم ممالک کے نام پیغام جاری کیا ۔انہوں نے کہا کہ ” میرا عید کا پیغام سوائے دوستی اور بھائی چارے کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ ہم سب یکساں طور پر مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ سیاسی اقتدار کا جو ڈرامہ فلسطین‘انڈونیشیا اور کشمیر میں کھیلا جارہا ہے‘وہ ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ ہم اپنے اسلامی اتحاد کے ذریعے ہی عالمی فورم پر اپنی قوت محسوس کراسکتے ہیں”۔یہ قائد اعظم کی فکری سوچ کا نتیجہ ہے کہ فلسطین کے معاملے پر مسلم ممالک یکجا ہوئے اور ایک تنظیم قائم کی جب کہ اسرائیل کو پاکستانی دستور ساز اسمبلی میں تسلیم نہ کرنے کی متفقہ قرارداد کا پیش ہونے کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہے۔ اسرائیل کے اقوامِ متحدہ کا رکن بننے کی مخالفت کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے جیسے ختم کرنے کی ہر فورم پر کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہم پاکستانی جانتے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا ناجائز و قابض طاقت کو قانونی و اخلاقی جواز فراہم کرنا اورمعصوم فلسطینیوں کی موت کے پروانے پہ دستخط کرنے جیساہوگا ۔
اقوام عالم جانتی ہے کہ آج عالمی منظر نامہ کس کے اشارے پر تبدیل ہوتا ہے اور اس اشارہ کرنےوالے کی ڈوریں کس کے ہاتھ میں ہے ۔ اسرائیل کو تسلیم کرانے کی امریکی کوشش میں ہمیشہ پاکستان اور اس کے رفقا رکاوٹ ثابت ہوئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرکےاپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔ پاکستان ابتدا ہی سےاندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہے اور یہ عالمی مہرے کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہر حد پار کرنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔ قائد اعظم ان عالمی طاقتوں کے رحجان اور مفاد پرستوں کی سیاست سے بخوبی آگاہ تھے اس لیے انہوں نے ملک کی تعمیر کے ساتھ عالمی طاقتوں کی نقل و حرکت رکھنے پر زور دیا ۔ انہوں نے مارچ 1948 کو جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ آج ہندوستانی اخبارات اور دوسرے سیاسی ادارے جو پاکستان کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھے ۔وہ مشرقی بنگال کے مسلمانوں کے مطالبات کے ” جنہیں وہ جائز مطالبات کہتے ہیں ” کے بڑے طرفدار بنے ہوئے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ وہ جب مسلمانوں کو پاکستان لینے سے نہ روک سکے تو اب اپنے پروپیگنڈا سے اندر ہی اندر پاکستان کی جڑیں کھودنا چاہتے ہیں ۔ان کا مقصد صرف ایک ہے وہ یہ کہ مسلمان آپس میں لڑ پڑیں اور صوبائی تعصب ان کی جڑیں کھوکھلی کردے ۔بد قسمتی سے آپ کےیہاں غدار بھی موجود ہیں اور وہ مسلمان ہی ہیں ان غداروں کی پرورش باہر کے ادارے اور باہر کے لوگ کرتے ہیں جن کا مقصدصرف انتشار پھیلانا ہوتا ہے کچھ لوگ آپس کے اختلاف کو ہوا دینے میں آگے آگے ہیں تا کہ عوام میں اتفاق قائم نہ رہ سکے ۔ ان عناصر کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے ۔ آپ کو چوکنا رہنا ہوگا تاکہ کسی بھی بھنور میں پھنسے سے بچا جا سکے۔
پاکستان کے لیے اس وقت خارجہ پالیسی کے میدان میں سب سے بڑا چیلنج اندرونی خلفشار ہے جو اس کے حقیقی محل وقوع کو اثاثے میں تبدیل ہونے نہیں دیتا ۔ کئی دہائیوں سےدنیا بھر میں پاکستان کا امیج ایک دہشتگرد ملک کی حیثیت سے ہے ہم دو دہائیوں سے پر امن ملک و قوم ہونے کی یقین دہانی کر وا رہے ہیں جس کی پاداش میں لاکھوں جانیں قربان کیں اور کھر بوں کو نقصان کر بیٹھے ہیں مگر آج بھی ہم وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جو ہمیں کئی سالوں سے مطلوب ہے ۔ اس میدان میں ناکامی کا سبب ایک طرف اندرونی مسائل کا سامنا ہے تو دوسری طرف ملک میں حقیقی قیادت کی کمی بھی ہے ۔ ملک پاکستان کو اس وقت ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ملک کو درست سمت میں لا کھڑا کرے اور ساتھ ہی ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ملک کو درپیش مسائل ہمارے پیدا کردہ ہیں اور ان مسائل کا حل بھی ہمیں خود ہی تلاش کرنا ہوگا۔
وطن عزیز میں کئی دہائیوں سے حکمرانی کرنے والے خاندان نے دیگر ممالک سے برادرانہ تعلقات قائم کیے ہیں لیکن ان پر ملکی خارجہ پالیسی کے بجائے شخصی دوستی غالب ہے ۔ یہ قوم کا ہر بند ہ جانتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں پاکستان کے ایران سے تعلقات سعودیہ کے نسبت قریبی ہوتے ہیں جب کہ لیگی ادوار میں سعودیہ عرب پاکستان کے قریب ہوتا ہے ۔دونوں ممالک مسلم ہیں اور پاکستان کے قریبی دوست بھی سمجھے جاتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہر دور میں چاہے کسی بھی پارٹی کی حکمرانی ہو تعلقات میں یکسانیت رہے۔لیکن ایسا نظر نہیں آ رہا ہے ۔ دنیا بھر میں عالمی وبا نے اپنے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں ۔ کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں اس عالمی وبا “کرونا” نے تباہی نہ پھیلائی ہو ، بیشتر ترقی پذیر ممالک کی معیشت تقریبا تباہ ہو چکی ہے ایسے میں پاکستان کے دیرنہ دوست ملک سعودیہ کا قرضہ واپس مانگنا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔ کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی اس قدر کمزور پڑ گئی ہے کہ مسلم برادر اور دوست ملک ( سعودیہ عرب ) جو ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے وہ آج اس مشکل وقت میں سطلطنع عمرانیہ کے دور میں دیا ہوا قرضہ واپس مانگ رہا ہے ۔اس کڑے وقت میں پاکستان نے دو قسط اداکر دی ہیں لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں ، یہ ہماری سیاسی و سفارتی ناکامی ہے یا پھر عالمی منظر نامے کی تبدیلی ( مسلم ممالک کا اسرائیل کو تسلیم کرنا ) اس صورتحال کی روح رواں ہے ؟ یا پھر یہ شریف خاندان سے دوستی نبھانے کے لیے حکومت وقت کے خلاف کوئی نیا محاذ تو کھو لا جا رہا ہے ؟ی اگر ایسا نہیں ہپے تو پھر یہ ہماری خارجہ پالیسی نئے رخ اور اس کمزوری کی جانب اشارہ کر رہی ہے ؟ اگر ایسا ہے توپھر وزیر اعظم ، وزیر خارجہ اور متعلقہ اداروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے یہ سوچنا ہوگا کہ اگر آہستہ آہستہ تمام ممالک اور عالمی ادارں نے اپنے اپنے قرض مانگنا شروع کر دیے اور ہم پر یوں دباؤ ڈالا جاتا رہا تو ہماری حکمت عملی کیا ہوگی ؟ کیا ہم اس دباؤ میں آ کر اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے یا پھر سی پیک جیسے اہم منصوبے سے پیچھے ہٹ کر اس دباؤ کو کم کریں گے یہ وہ سوالات ہیں جو عالمی منظر نامے پر لکھے جا رہے ہیں ۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستان کی سالوں کی غفلت ہے اورسیاسی دوستیاں سفارتی نا کامی کا باعث ہے۔جمہوریت اور مار شل لا کے ادوار نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں غیر ضروری اور ذاتی و شخصی دوستی کو الگ کرنےکا موقع ہی نہیں دیا ۔ملک میں حکومت قائم کرنے اور سیاسی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بیرونی ممالک سے دوستی اور درپردہ تعلقات نے ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے جب کہ حکمرانی کے گرتے معیار اور موروثی سیاست نے ملک کو اندرونی طور پر کمزور کردیا ہے ۔ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ کوئی ملک اندرونی طور پر مسائل کا شکار ہو اخلاقیات کی باقیات تک نہ بچی ہو اور معیشت و تجارت مفلوج ہو ان سب خامیوں کے باوجود وہ ملک دنیا میں اچھا مقام حاصل کرلے اور دوست ممالک سے تعلقات برابری کی سطح کے ہوں البتہ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ ایسے ممالک تنزلی کا شکار رہتے ہیں بعض اوقات بیرونی دباؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ ملک اپنا تشخص کھو دیتا ہے اورمجبوراََ ایسے فیصلے کرنے پڑ جاتے ہیں جو اس ملک و قوم کے نظریات سے متصادم ہوں ۔ پاکستان کو مسئلہ کشمیر اور مسئلہ اسرائیل پر ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے جو ہماری سالوں کی نا اہلی کا نتیجہ بھی ہے ۔ کئی عشروں سے جاری اداروں کے درمیان تصادم اور سیاسی کشمکش نے ملک کی جڑیں کمزور کر دی ہیں ، سرکاری مشینری کی نااہلی، آئین و قانون کی پامالی کے رجحان نے ہمیں سیاسی و معاشی طور پر غیر مستحکم کر دیا ہیں جب کہ معاشرتی و قوم اتحاد کے لحاذ سے ہم کئی حصوں میں بٹی قوم ہیں ۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں بحیثیت قوم ہمیں کن عوامل کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے ۔ملک کو چلانے کی موجودہ پالیسی جو سالوں سے چلتی آ رہی ہے کو اپنائے رکھنا ہے یا پھرملک و قوم کی بقا کے لیے قائد کے فرمودات پر عمل کرنا ہے۔ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ملک پاکستان کو چلانے کے لیے قرضوں کے بجائے قومی دولت اور قدرتی وسائل پر ہی انحصار کرنا ہے تاکہ وطن عزیز کی کھوئی ہوئی شناخٹ کو اقوام عالم میں واپس لایا جا سکے ۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close