کالمز/بلاگز

کورونا وائرس جان لیوا نہیں، بے احتیاطی جان لیوا ہے

بے نظیرٹراماسینٹر میں داخل ہونے سے قبل میرے اٹھتے قدم لڑکھڑا رہےتھے، سامنے ایمبولینس میں منتقل کی جانے والی لاش مجھےاپنی موت نظر آنے لگی تھی۔ اپنے ہمراہ چلتے 25 سالہ بیٹے کے بچپن کا منظربھی ذہن کے پردے پر چلنے لگا جسے بیمار ہونے پرسول اسپتال لایا تھا۔ یہ الفاظ ہیں آصف (فرضی نام) کے جو کورونا کی تشخیص سے چارروز قبل ایران میں مقدس مقامات کی زیارت کے بعد بذریعہ جہاز کراچی پہنچے تھے۔ تفتان ائر پورٹ پرتیز بخاراور سینہ جکڑا ہوا محسوس ہونے کوموسمی نزلہ زکام اور سفر کی تھکان سمجھنے والے آصف کو ٹی وی پر سہہ پہر3 کانیوز بلیٹن سن کر پتہ چلا چین میں پھیلا کورونا وائرس اب ایران میں تباہی پھیلارہا ہے، 45 ہلاکتوں کی خبرنے دل ودماغ ہلا دیا۔ وائرس کی علامات جاننے کے لئے گوگل کا سہارا لینے والے آصف نے وہی علامات خود میں پائیں اور ہمت کرکے بیٹے کو بتایاجو خاموشی سے رکشے میں بٹھا کر اسپتال لایا، ٹیسٹ لئے گئے اور 2 روز بعد کورونا کی تشخیص ہوئی۔ ٹھیک بارہ دن بعد آصف کے ٹیسٹ دوبارہ لئے گئے اور خوش قسمتی سے اس بار منفی رزلٹ آنے پر سول اسپتال کراچی سے ڈسچارج کردیا گیا -بعد میں پتہ چلا کہ وہ پاکستان میں کورونا سےصحت یاب ہونے والے دوسرے مریض تھے۔
پاکستانیوں کیلئے لفظ “کرونا” 26 فروری سے قبل اس حد تک اہم تھا کہ سوشل میڈیاپرمیمز بنالیں ، حق فیس بک اور واٹس ایپ ادا کرتے ہوئے اللہ کا عذاب قرار دے ڈالا، حلال اشیاء نہ کھانے والے چینیوں کو بُرابھلا کہتے ہوئے یہ فساد پھیلانے کا سبب قرار دے ڈالا اور یاردوستوں کی محفل میں بیٹھے تقریر کرڈالی۔ ایران سے آنے والے یحییٰ جعفری نامی کراچی کے شہری کا نام پاکستان میں کرونا سے متاثرہ افراد کی فہرست میں سب سے پہلے درج ہوا توکچھ شوراٹھا لیکن جلد ہی پی ایس ایل کے جوش وجذبے میں وہ بھی دب گیا۔ صورتحال بتدریج بدلی اور ایک ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہونےاورحکومت کی جانب سے ڈنڈا اٹھانے کے بعد بالآخرخاصی حد تک سنجیدگی کا مظاہرہ دیکھنے میں آہی گیا۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے وبا قرار دی جانے والی یہ کورونا نامی بلاپاکستان کے ہیلتھ سیکٹر سے بہت سے پردے اٹھا رہی ہے۔اعداد وشمار کا جائزہ لیں تو 22 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں اس بیماری کی شدت کا مقابلہ کرنے کیلئے ناگزیر وینٹی لیٹرز کی تعداد خطرناک حد تک کم ہے۔سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق ان کی تعداد 2ہزار ہے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کہتی ہیں کہ صوبے بھر میں نجی و سرکاری اسپتالوں میں 385 وینٹی ليٹرز موجود ہيں جبکہ صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی تعداد صرف 179 ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق صوبے سندھ میں 2ہزار بستروں پر مشتمل آئیسولیشن سینٹر اور قرنطینہ مراکزقائم کیے گئے ہیں جکہ ایک ہزار مریضوں کے لیے سرکاری اسپتالوں میں سہولیات رکھی گئی ہیں اورسرکاری سطح پر اس وائرس سے نمٹنے کے لئے ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تعداد تقریباً60 ہزار ہے۔سول اسپتال کراچی میں کورونا مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی نرس سحر (فرضی نام ) کہتی ہیں اسپتال میں کام کرتے وقت ہر وقت خوف رہتا ہے کہ کہیں ہم بھی اس وائرس کا شکار نہ جائیں کیونکہ اکثر مریضوں کو چھونا پڑتا ہے، ہمارے پاس جدید حفاظتی لباس بھی نہیں لیکن ہمیں اس وائرس کو شکست دینی ہے۔ سحر نے بتایا کہ ان کے گھر میں صرف والدہ کو اس بات کا علم ہے کہ وہ کورونا کے مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔
شہری سمھجتے ہیں کہ کورونا کی تشخیص خون کے ٹیسٹ کے ذریعے ہوتی ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ، کورونا کا ٹیسٹ ناک کے نمونوں سے کیاجاتا ہے۔ اس وائرس کی تاحال کوئی ویکسین موجود نہیں ،اس حوالے سے ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب کاکہنا ہے کہ وائرس سے بچنے کا واحد حل معاشرتی دوری ہے۔ اسی لیے صوبے بھرمیں کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کیا گیا۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سندھ بھرمیں اب تک اس وائرس کا شکار افراد کی تعداد 1500سے تجاوزکرچکی ہے جبکہ اس سے متاثرہ دو درجن سے زائد افرادجان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایسے افراد کی تدفین بھی ایک مشکل مرحلہ ہے جس کیلئے ترتیب دیے جانے والے لائحہ عمل کے مطابق 4 سے 5 افراد پر مشتمل اسپتال کا تربیت یافتہ عملہ کرے گا۔ سرجیکل لباس ، چشمہ ، دستانے اوراین 95 ماسک پہنے ہوئے عملہ میت کوپلاسٹک بیگ میں لپیٹ کرکفن باکس میں رکھے گا، وہی عملہ نماز جنازہ کے بعد تدفین کرے گااورجس گاڑی میں میت لے جائے جائے گی اسے اچھی طرح جراثیم کش ادویات سے صاف کیا جائے گا۔ آغا خان اسپتال کے ماہر متعدی امراض ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی تاحال کوئی ویکسین دستیاب نہیں اس لیے احتیاط واحد حل ہے۔ شہری سماجی سرگرمیاں انتہائی محدود کرتے ہوئے صفائی کا خاص خیال رکھیں ساتھ ساتھ مرغن غذاؤں سے پرہیز اور موسمی پھل اور سبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں ۔ اس سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا جو اس وائرس سے بچاؤ میں بیحد مددگار ہے۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close