کالمز/بلاگز

ڈیل آف سینچری یا صدی کا المیہ

بادشاہ خان

ڈیل آف سینچری یا صدی کا المیہ
فلسطین کا سودا ڈیل نہیں ہے، اس کے خلاف مسلمان عوام میں احتجاج شروع ہوچکا ہے، عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں عرب ممالک نے بھی اسے مسترد کردیا ہے،خود اقوام متحدہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہے، کہ ٹرمپ امن منصوبے سے تشدد بڑے گا،ڈیل ہمیشہ رضامندی سے ہوتی ہے،اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کے مسئلے کو ڈیل آف سینچری کیوں کہا؟ کیا عرب ممالک اور مسلم حکمرانوں کی اکثریت اس پر راضی ہوچکی؟یا بزدلی کی وجہ سے جواب دینے سے قاصر ہے،البتہ مسلم ممالک کی عوام میں اس بیان کے خلاف احتجاج شروع ہوچکے ہیں،مسئلہ فلسطین کا یہ حل ڈیل آف سینچری نہیں بلکہ صدی کا المیہ بن سکتا ہے،امریکی صدر نے اسرائیل کو خوش کرنے کے لئے بیت المقدس کو اسرائیل کا درالحکومت قرار دیکر نئی جنگ کا میدان واضح کردیا ہے، فلسطینی عوام میں نئی تحریک کے لئے روح پھونک دی ہے، ہم نے امریکی صدر کا حلف اٹھانے کے موقع پر لکھا تھا کہ اب یہودی لابی کی مرضی کے فیصلے ہونگے، امریکی صدر دیوانہ نہیں، اسے کئی اہم مسئلوں کو حل کرنے کے لئے یہودی لابی لائی ہے،بہت سے لبرل دانش فروشوں نے اسے سنکی کہا،نفسیاتی مریض کہا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ یہودی لابی کے منصوبوں کو پروان دینے میں مگن رہا، اور اب وہ اپنے اس کارنامے کو ڈیل آف دی سینچری نہ کہے تو کیا کہے ، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ سب منصوبہ بندی سے ہورہا ہے، جس میں چند ممالک شائد امریکی منصوبے کا ساتھ دے رہے ہیں، لیکن عرب لیگ کے حالیہ اجلاس میں اسے فلسطینی عوام کے خلاف قرار دیتے ہوئے رد کردیا ہے،جو کہ خوش آئند ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے جو دو ریاستی فارمولے پر مبنی مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کا منصوبہ پیش کیا ہے،اس کے تحت بیت المقدس سمیت وہ تمام فلسطینی علاقے اسرائیل کے مستقبل قبضے میں رہیں گے جن پر اس نے 1967ء کی جنگ یا اس سے پہلے اور بعد میں امریکی پشت پناہی سے طاقت کے بل پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اسرائیل کی منشا اور مشاورت سے تشکیل دیے جانے والے منصوبے کو فلسطین کی حکومت اور مسلح جدوجہد کرنے والی تنظیموں پی ایل او، حماس، اسلامی جہاد اور الفتح نے ”بکواس“ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جبکہ رملہ، غزہ اور کئی دوسرے شہروں میں ہزاروں فلسطینیوں نے اس کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کیے ہیں۔پاکستان میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں، امریکی منصوبے کے تحت جسے مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات، بحرین اور اومان کی تائید حاصل ہے اور صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اجلاس میں ان کے شریک ہونے کا شکریہ بھی ادا کیا ہے، مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا جبکہ اس کے مشرق میں فلسطین کا دارالحکومت ہو گا۔ مجوزہ فلسطین کو جس کے نقشے کی صدر ٹرمپ نے توثیق کی، اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ لبنانی تنظیم حزب اللہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند عرب ریاستیں غداری نہ کرتیں تو یہ منصوبہ سامنے نہ آتا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے واضح کیا ہے کہ بیت المقدس برائے فروخت نہیں۔ یہ ایک سازشی منصوبہ ہے جو کامیاب نہیں ہو گا۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو اس منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے فوری اجلاس بلانا چاہئے اور فلسطینی مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کرنا چاہئے،۔سوال یہ ہے کہ کیا عرب لیگ اور او آئی سی اس پر سخت اور عملی قدم اٹھائے گی، یا صرف مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجھتی کے مظاہرے کئے جائیں گے؟
گذشتہ برس ہی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان دیکر دنیا کو واضح پیغام دے دیا تھا کہ امریکہ فلسطین کے بارے میں کیا کرنے جارہا ہے، بیت المقدس(یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھاکہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔’یہ ایک اتحادی کو تسلیم کرنے کے لیے علاوہ اور کچھ نہیں۔ میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے احکامات دیتا ہوں۔‘’امریکہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔ اگر دونوں فریق اس بات پر راضی ہو جائیں۔ ہم خطے میں امن اور سلامتی چاہتے ہیں۔ ہم پر اعتماد ہیں کہ ہم اختلافات کے خاتمے کے بعد امن قائم کریں گے۔‘امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ‘یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔
دنیا کی تیسری مقدس مسجد اقصئی یہودیوں کے قبضے میں ہے،ڈیل آف سینچری کے اعلان کے بعداس کے حساب کو چکتا کرنے کا وقت آگیا ہے،مسجداقصَی اپنی مظلومیت کا حساب مانگ رہی ہے،فلسطین کی مقدس سرزمین لاشوں سے بھر چکی ہے جو امت مسلمہ کی بے حسی کا نتیجہ ہے،آج ہرطرف سے مسلمانوں پر یلغار ہے اور مسلمان مغرب کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں اور بے بسی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں،جبکہ یہودیوں سے جنگ لڑنا اٹل ہے مگر تیاری نہیں ہے، دوسری طرف طبل بج چکا ہے، امت مسلمہ کے بقا و تحفظ کا سوال ہے وہ بیت المقدس جسے سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے صلیبیوں سے آزاد کرایا تھا آج صہونیت کے پنجے میں ہے، اگر ان کا بس چلے تو اس کو شہیدکرنے میں دیر نہ لگائیں اور اگر ہماری یہی حالت رہی تو اسرائیل اسے گرانے میں دیر نہیں کرے گا،کیونکہ ان کا مذہبی عقیدہ ہے کہ اس جگہ ہیکل سیلمانی تعمیر کرنا لازمی ہے اس کے بعدہی دنیا میں یہودیوں کو طاقت اور عزت ملے گی گریٹر اسرائیل یا آزاد فلسطین فیصلہ ہم نے کرنا ہے،قومیں فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کرتیں کیونکہ تاخیر کبھی قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے ۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ، اور مغربی ممالک کو اگر اسرئیل کے دفاع کی فکر ہے، جب ان کو بین الاقومی قوانین کا پاس نہیں، تومسلم ممالک کو حماس اور فلسطین کی مدد کا پورا حق حاصل ہے،اور اپنے دفاع کے لئے کھل کرسامنے آنا ہوگاجب ان کے ہاں اس مسئلے پر دوہرا معیار نہیں تو پھر ہم کیوں شرمندہ اور چپ ہیں،سوال یہ ہے کہ کیا ان حکمرانوں میں کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں؟ ہر ملک ہر مذہب اور بین الاقومی قوانین اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ ہر شخص ہر ملک کو اپنے دفاع کا بنیادی حق حاصل ہے اور اس سے کوئی نہیں روک سکتا،کشمیر ہو یا فلسطین کا ہر جگہ امت مسلمہ اپنی سرزمین اور عوام کا دفاع کررہے ہیں، اوراسلامی عسکری اتحاد اور او ائی سی سمیت مسلم حکمرانوں کو اس میں بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ مغرب کا دوہرا معیار اسلامی ممالک کو مزید ٹکڑے کرنے میں جت گیا ہے،آج شام،،یمن عراق میں آپس کی جنگوں میں تباہ ہوگئے ہیں،رہ جانے والوں کی باری ہے،آہ سلطان صلاح الدین ایوبی ہم آپ سے شرمندہ ہیں۔۔۔۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close