ادھر اُدھر کینمایاں

سابقہ ٹیکسٹائل پالیسی کی معیاد دو سال قبل ختم,نئی پالیسی تاخیر کا شکار

سابقہ ٹیکسٹائل پالیسی کی معیاد دو سال قبل ختم,نئی پالیسی تاخیر کا شکار

سابقہ ٹیکسٹائل پالیسی کی معیاد دو سال قبل ختم ہو چکی ہے، نئی پالیسی تاخیر کا شکار ہے۔
نئی ٹیکسٹائل پالیسی کے اعلان سے قبل تمام شراکت داروں سے بھرپور مشاورت کی جائے۔
مجوزہ پالیسی میں سستی گیس اور بجلی کے وعدے پر عمل درآمد ضروری ہو گا۔ میاں زاہد حسین

ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ سابقہ ٹیکسٹائل پالیسی کی معیاد دو سال قبل ختم ہو چکی ہے اور نئی ٹیکسٹائل پالیسی تاخیر کا شکار ہے۔ حکومت نئی ٹیکسٹائل پالیسی کے اعلان سے قبل تمام شراکت داروں سے بھرپور مشاورت کرے تاکہ یہ اہم ترین شعبہ ترقی کر سکے-19-2014کی ٹیکسٹائل پالیسی ایک مذاق تھا جس نے ٹیکسٹائل برآمدات میں جمود پیدا کیا اس لئے ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں تاکہ نجی شعبہ کا اعتماد بحال ہو۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسٹائل سب سے زیادہ برآمدات اور دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے جسے بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سابقہ ٹیکسٹائل پالیسی نے نہ صرف اس شعبہ میں جمود پیدا کیا بلکہ کئی شعبوں میں برامدات کم بھی ہوئیں۔ نئی ٹیکسٹائل پالیسی 25-2020 کا ڈرافٹ تیار ہے مگر اس کو منظور نہیں کیا جا رہا ہے جس سے ٹیکسٹائل سیکٹر بے چینی کا شکار ہو رہا ہے۔ مجوزہ پالیسی میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو 6.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے گیس فراہم کی جانی ہے مگر وزارت پٹرولیم اس نرخ پر گیس فراہم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کا ایک حل درآمد شدہ گیس پر سبسڈی ہے مگر سبسڈی یا تو ادا ہی نہیں کی جاتی یا اس میں اتنی تاخیر کر دی جاتی ہے کہ اسکا فائدہ نہیں رہتا جبکہ تاخیر کے سبب ایل این جی سپلائی چین میں خلل بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح مجوزہ ٹیکسٹائل پالیسی میں بجلی 9سینٹ فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کرنے کا ذکر ہے مگر بار بار بجلی کی قیمت میں اضافہ نے اس بارے میں سوالات کھڑے کر ڈالے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے مذیدکہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو بجلی کے بلوں میں سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر بجلی مہنگی ہونے سے اس پالیسی کی منظوری سے قبل ہی سبسڈی کا حجم دگنا ہو چکا ہے جبکہ وعدے کے مطابق سبسڈی فراہم کرنے سے گردشی قرضے میں زبردست اضافہ ہو گا جسے ہر قیمت پر کم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ بجلی مہنگی کر کے گردشی قرضہ کم کرنے کا فیصلہ عوامی اور صنعتی شعبہ کے مفادات سے ٹکراتا ہے جس کے لیے 400 ارب روپے کی نادہندگی، بجلی چوری اور لائن لاسز کو کنٹرول کرناضروری ہو گا۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close