میرا کراچینمایاں

کراچی کے سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کے بے رحمانہ رویے نے نوجوان کی جان لے لی

کراچی: سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کے بے رحمانہ رویے نے نوجوان کی جان لے لی۔

لیاقت آباد نمبر10پرہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب 2 بجے ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے والا 20 سالہ نوجوان سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کے بے رحمانہ رویے کے باعث دم توڑگیا۔

ایدھی ذرائع کے مطابق لیاقت آباد 10 نمبر پر تیز رفتار گاڑی سے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع پر ایمبولینس موقع پر پہنچی اورزخمی کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے ابتدائی طبی امداد کے بعد یہ کہہ کرجناح اسپتال کے لیے ریفر کردیاکہ ہمارے پاس مطلوبہ سہولیات موجود نہیں ہیں تاہم جناح اسپتال کے ڈاکٹروں نے مریض کو داخل کرنے سے انکار کر دیا۔

کافی دیر کوشش کے باوجود جب اسے وہاں علاج کے لیے نہیں لیا گیا تو واپس عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا تاہم عباسی شہید اسپتال کے نائٹ شفٹ کے آر ایم او نے اسے واپس جناح اسپتال لے جانے کو کہا ابھی ایمبولینس میں اسے دوبارہ جناح لے جانے لیے ڈالاگیا کہ وہ دم توڑ گیا۔

شریف آباد پولیس کا کہنا تھا کہ متوفی کریم آباد پل پر نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوا تھا ، زخمی کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے جناح اسپتال منتقل کیاگیا، جناح اسپتال نے بھی زخمی کو داخل کرنے سے انکار کردیا تھا ، زخمی کو پھر عباسی لے آئے اور ایک بار پھر جناح منتقل کر رہے تھے اس دوران دم توڑ گیا، زخمی رات 2بجے سے صبح ساڑھے 5بجے تک جناح سے عباسی اسپتال کے درمیان ٹھوکریں کھاتارہا۔

پولیس کے مطابق متوفی کے پاس سے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے اس کی شناخت کی جاسکے، جاں بحق ہونے والے نوجوان کا عباسی شہید اسپتال میں بننے والا ایم ایل نمبر 8321/21 ہے، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد متوفی کی لاش شناخت ورثا کے لیے ایدھی سردخانے روانہ کر دی

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close