کالمز/بلاگزنمایاں

درالعلوم کراچی کادورہ اور حضرت دامت برکاتہم کی فکر انگیز گفتگو

اتوار چھٹی کا دن ہوتا ہے، اور ان دنوں کرونا کے خوف سے کوئی بھی گھرسے نکلنے کو تیار نہیں،لیکن جب دعوت پاکستان بلکہ عالم اسلام کی عظیم دینی درس گاہ درالعلوم کورنگی(کراچی)کے دورے اور شیخ اسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے کی ہو تو انکارکفران نعمت ہے،لہذا ہم ٹھیک ایک بجے درالعلوم پہنچ گئے،مدارس میں سالانہ چھٹیاں چل رہی ہیں،اس لئے زیادہ گہما گھمی نہیں تھی،وفاق المدارس کے زیر نگرانی ہونے والے امتحانات کی مارکنگ کا عمل جاری تھا، پہلی بارصوبائی سطح پر اس عمل کو شروع کیا گیا،اور اس کے لئے درالعلوم کو مرکز بنایا گیا ہے،ہمارے ساتھ کئی دیگر شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا،جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہونے والی مارکنگ کے عمل کا جائزہ لینے کیلئے معروف تعلیمی شخصیات اور سینٹر صحافیوں،کالم نگارز سمیت نیوز ایجنسیوں کے ذمہ داران نے تفصیلی دورہ کیا،این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر محترم ڈاکٹر سروش حشمت لودھی سمیت دیگر چنیدہ شخصیات شامل تھیں۔۔
ہماری خوش قسمتی کہ آج تشریف لانے والی ان شخصیات کی معائنہ سے قبل حضرت دامت برکاتہم العالیہ کے ساتھ ایک علمی وفکری،تعلیمی وتربیتی احوال پہ باوقار اور جامع نشست ہوئی، شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ نے سب مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چند اہم باتیں ارشاد فرمائیں۔حضرت دامت برکاتہم کے زرین کلمات کو اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش و جسارت کررہا ہوں جن کا خلاصہ کچھ یوں تھا۔مفتی صاحب نے فرمایامدارس دینیہ کی روشن خدمات سالوں کی محنتوں کا ثمرہ ہیں۔دینی اداروں میں مکاتب،مدارس اور جامعات شامل ہیں۔ان تینوں کا الگ الگ نظام تعلیم وتربیت ہے اور اپنے اپنے منہج کے مطابق خدمات انجام دے رھے ہیں۔۔۔یہاں کئی لوگ مکاتب کو دیکھ کر مدارس اور مدارس کو دیکھ کر جامعات سمجھتے ہیں۔بعض حضرات مکاتب کو دیکھ کر ایک بڑا ادارہ بلکہ جامعہ سمجھ لیتے ہیں، مکاتب قرآنیہ کی افادیت اس لئے سب سے زیادہ ہے کہ یہاں بچوں کو قرآن مجید کی وہ بنیادی اور ضروری تعلیم دی جاتی ہے جو ہر مسلمان کیلئے نماز کی طرح فرض ہے۔عالم یا مفتی بننا اچھا ہے لیکن قرآن کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا فرض ہے۔۔۔۔اور اس اہم فریضہ کے ساتھ ابتدائی دینی تعلیم جس میں نماز،مسنون ادعیہ و کلمے یاد کرائے جاتے ہیں،اس غلط فہمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر حضرات مساجد میں قائم مکاتب کو دیکھ کر تمام مدارس وجامعات کے بارے میں اپنا ذہن بنالیتے ہیں۔ ان حضرات کو چاہی ہے کہ وہ ہمارے مدارس اور جامعات میں تشریف لائیں اور یہاں کے نظام تعلیم وتربیت سمیت خدمات کا جائزہ لیں۔اگر کوئی قابل اصلاح بات ہو تو مہذب اور شائستگی سے اس پہ توجہ دلائیں، ہم ہر قسم کی مثبت تنقید کا ہمیشہ خیرمقدم کرتے آئے ہیں۔۔۔لیکن صرف غلط فہمی اور غلط معلومات کی بنیاد پہ مدارس کی خدمات کو تسلیم نہ کرنا مناسب نہیں، وفاق المدارس سے منسلک ادارے مذکورہ تینوں نوعیت کے ہیں۔۔اور ان میں ہر ایک اپنے وسیع دائرہ میں اپنے تعلیمی وتربیتی سلسلے میں مصروف عمل ہیں۔ ان مدارس میں عصری تعلیم کا مکمل انتظام بھی ہے اور درس نظامی کے مکمل درجات کے ساتھ اسپیشلائزیشن (تخصصات) کے حصول کا بھی نظم موجود ہے۔جس میں فقہ اور حدیث سمیت دعوت وارشاد کے عنوانات قابل ذکر ہیں،وفاق المدارس ایک مضبوط تعلیمی نیٹ ورک ہے،اس سے منسلک مدارس وجامعات کا بہترین نظم وضبط کے ساتھ ملک بھر میں ایک ہی نظام کے تحت امتحانات کا انعقاد ہوتا ہے۔
مفتی صاحب نے وفاق المدارس کے نظم امتحان پر فرمایاکہ اس مثالی نظام امتحان کے بعد ایک اہم مرحلہ اس کے نتائج کی تیاری کیلئے مارکنگ کا عمل ہوتا ہے۔اس عمل میں ملک کے ماہر وجید علماء ومدرسین کا انتخاب کیا جاتا ہے۔۔اس بار افراد کی زیادتی اور اپنے مثالی معیار کو برقرار رکھنے کیلئے چاروں صوبوں میں مارکنگ کا عمل تقسیم کیا گیا ہے۔جس میں ایک حصہ یہاں جامعہ دارالعلوم کراچی کو بنایا گیا ہے۔
اس کے بعد ایک سوال کے جواب میں حضرت دامت برکاتہم نے جامعہ دارالعلوم کراچی کے بارے میں فرمایا کہ یہاں الحمدللہ درس نظامی کے تمام درجات میں تعلیم سمیت فقہ،حدیث اور قرآت میں اسیپشلائزیشن بھی ہورہا ہے،ہمارے درس نظامی کے پہلے درجہ سے قبل میٹرک لازمی ہے،دارالعلوم میں سکینڈری تک عصری تعلیم کے ساتھ بین الاقوامی طور پہ معروف ”کیمرج اسکول سسٹم” کا نصاب بھی پڑھایا جارہا ہے۔اور آپ حضرات کو جان کر خوشی ہوگی کہ ہمارے دارالعلوم کے ادارہ ”حراء فاؤنڈیشن” کے ایک طالعلم نے پوری دنیا میں ”اے لیول” کے امتحان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی اور اس طالب علم کو صدر پاکستان نے اعزاز سے نوازا۔الحمدللہ یہاں کئی تعلیمی وفنی شعبے مستقل کام کررھے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں حضرت دامت برکاتہم نے اس سال امتحان کے موقع پہ ایک پرچہ رات دس بجے لیک ہونے کے بعد چند گھنٹوں میں گوادر سے لیکر آزاد کشمیر وگلگت اور چترال سمیت ملک کے کونے کونے میں قائم سینٹرز میں نیا پرچہ دینے پہ وفاق المدارس کے منتظمین ومسؤلین اور اراکین کی شاندار کارکردگی کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔
حضرت کی اجازت سے راقم نے وقف املاک ایکٹ میں ترامیم کے حوالہ سے سوال کیا جس پہ حضرت نے اس سنگین مسئلے پر جو کام کیا اور اسپیکر قومی اسمبلی صاحب کے کہنے پہ ترمیمی بل کی صورت میں بھی کام مکمل کر کے دینے کی تفصیلات سے بھی آگاہ فرمایا۔ااسی نشست میں مفتی صاحب کے حکم پر وفاق المدارس العربیہ کے امتحانی کمیٹی کے رکن اور کراچی میں مارکنگ کے نگران حضرت مولانا راحت علی ھاشمی مدفیوضہم (ناظم تعلیمات واستاد الحدیث جامعہ دارالعلوم کراچی) نے مارکنگ کے عمل میں شفافیت اور نظم پہ جامع روشنی ڈالی،اس موقع پہ بعض سوالات حضرت شیخ الاسلام صاحب دامت برکاتہم نے بھی مجلس کے شرکاء کی معلومات میں اضافہ کے حوالہ سے کئے،جس میں دوران امتحانات اور مارکنگ کے عمل میں لاکھوں پرچوں کی ترسیل کی بابت بھی تھے۔
آخر میں مفتی صاحب نے دعاء کی دعا کے بعد تمام معزز مہمانان گرامی نے جامعہ دارالعلوم کراچی میں قائم مارکنگ کیلئے مختص احاطہ کا مفصل وزٹ کیا۔اس موقع پہ مکمل عملہ کی جانب سے ماسک کی موجودگی اور دیگر احتیاطی تدابیر کو بھی خوب سراہا، اللہ تعالی مولانا طلحہ رحمانی سمیت تمام اراکین وممتحنین وفاق المدارس کی تمام محنتوں وکاوشوں کو بھی شرف قبولیت سے سرفراز فرمائے۔آمین یارب العالمین

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close