ادھر اُدھر کینمایاں

کراچی دھماکے میں مزید دو زخمی زندگی کی بازی ہار گئے

کراچی: لیاقت آباد میں پانچویں منزل پر واقعے فلیٹ میں دھماکے سے چھت گرنے اور جھلس کر زخمی ہونے کے واقعے میں مزید 2 بچے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئے جس کے بعد واقعے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 4 ہوگئی۔

ایس ایچ او لیاقت آباد رضوان پٹیل نے بتایا کہ لیاقت آباد 9 نمبر 5 منزلہ عمارت کی پانچویں منزل کے فلیٹ میں بدھ کی شب دھماکے میں چھت گرنے اور جھلس کر زخمی ہونے والوں میں شامل 4 سالہ زین ولد فرحان اور 4 سالہ ذینب دختر عمران نے جمعرات کی شام زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا جس کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 4 ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ بدھ کی شب واقعے میں جاں بحق ہونے والے 40 سالہ آصف اور 6 سالہ عبدالہادی کی نماز جنازہ جمعرات کو بعد نماز ظہر لیاقت آباد نو نمبر میں واقعے جامع مسجد میں ادا کی گئی جنھیں بعدازاں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا تاہم جاں بحق نے والے 2 بچوں کی لاشیں پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی ہیں۔

 

ایس ایچ او نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پولیس کو سلنڈر دھماکا بتایا گیا تھا تاہم مزید تحقیقات کے لیے پولیس نے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا جس نے تباہ ہونے والے فلیٹ کا مکمل جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کی۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق 5 منزلہ رہائش عمارت کی دیواروں کے لیے 4 انچ کے بلاک لگائے گئے تھے، عمارت کی پانچویں منزل کے کمرے میں اے سی لگا ہوا تھا، اے سی پرانے بجلی کی پرانی وائرنگ سے چلایا جا رہا تھا جو گرم ہوئی اور اے سی کے آؤٹر کے قریب شارٹ سرکٹ ہوا جس کے باعث آگ لگی اور اے سی کی گیس سے کمپریسر میں پریشر بننے سے آگ اور پریشر کے باعث اے سی کا کمپریسر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پانچویں منزل کی تینوں جانب کی دیواریں اور چھت کا کچھ حصہ گر گیا جبکہ متعدد بچے جھلس کر بھی زخمی ہوگئے، جائے وقوعہ کو معائنے کے بعد کلیئر کر دیا گیا ہے۔

بم ڈسپوزل کے ماہرین کا کہنا تھا کہ واقعہ اتفاقیہ حادثہ ہے تاہم اس دھماکے میں تاحال کوئی بھی دہشت گردی کے کوئی شواہد نہیں پائے گئے

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close