پیٹرولیم ڈویژن نے گھریلو گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس حوالے سے سمری تیار کر کے وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے، جس کی منظوری کے بعد نئے کنکشنز کا اجرا شروع کر دیا جائے گا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے فیصلہ کیا ہے کہ گھریلو صارفین کو اب درآمدی گیس پر مبنی کنکشنز فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم، درآمدی گیس کے یہ کنکشنز قدرتی گیس کے مقابلے میں کئی گنا مہنگے ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق، نئے کنکشن کی فیس 41 ہزار روپے تک ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ پیٹرولیم ڈویژن کے قریبی ذرائع نے اس ماہ کے آغاز میں انکشاف کیا تھا کہ وفاقی حکومت گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ نئے گھریلو اور کمرشل صارفین کی ضروریات کا اندازہ لگاتے ہوئے اپنا ہوم ورک مکمل کرے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مختلف سیکٹرز کو گیس کی فراہمی میں بہتری کے بعد سسٹم میں اضافی گیس دستیاب ہو چکی ہے، جب کہ سوئی گیس کمپنیوں کے نقصانات پر بھی بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ اسی اضافی گیس کے باعث حکومت نے ایل این جی کے پانچ کارگوز کو مؤخر کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ 2019 میں وفاقی حکومت نے ملک میں گیس کی قلت کے باعث نئے کنکشنز پر پابندی عائد کر دی تھی، جو اب پانچ سال بعد ختم ہونے جا رہی ہے۔






