وزیر توانائی سندھ ناصر حسین شاہ نے کراچی کے رہائشیوں اور صنعتی شعبے کو سستی بجلی فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیپرا کے تحت فراہم کی جانے والی بجلی کے نرخ کے الیکٹرک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت خود بجلی پیدا کر کے ایس ٹی ڈی سی کے ذریعے ترسیل کرے گی، جس کے نرخ نیپرا کے طے شدہ نرخوں سے منسلک نہیں ہوں گے۔ “ہم اپنے نرخ خود طے کریں گے اور یہ نیپرا کے نرخوں سے کہیں کم ہوں گے۔” ناصر شاہ نے بتایا کہ سیپرا میں عملے کی بھرتی مکمل کر لی گئی ہے اور اس ماہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ ابتدائی توجہ اکنامک زونز پر مرکوز ہے اور کوشش ہے کہ بجلی کی پہلی ترسیل فور کے گرڈ اسٹیشن کو فراہم کی جائے۔ وزیر توانائی نے کہا کہ سندھ اسمبلی سے سیپرا کو آئینی منظوری مل چکی ہے، اور کراچی کے شہری بھی اس سستی بجلی سے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترسیلی نظام ایس ٹی ڈی سی کے پاس ہونا چاہیے اور کے الیکٹرک کے بورڈ میں سندھ کو نمائندگی ملنی چاہیے، جس کے لیے وفاق سے کہا گیا ہے کہ ایک نمائندہ وفاق اور باقی دو سندھ سے ہوں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سندھ حکومت کا کے الیکٹرک کے ساتھ سولر پارکس سے سستی بجلی کی فراہمی کا معاہدہ ہوا ہے اور کے الیکٹرک کو تجویز دی گئی ہے کہ جب سولر سے بجلی دستیاب ہو تو مہنگے ایندھن والی بجلی نہ خریدی جائے۔






