کراچی میں 27 ہزار والدین بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری ہیں، وزیر صحت کا انکشاف

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں 27 ہزار والدین اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کر رہے ہیں۔بلدیہ ٹاؤن میں انسدادِ پولیو مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انکاری والدین کی سب سے زیادہ تعداد ضلع شرقی کے گجرو، بلدیہ اور اتحاد ٹاؤن سے رپورٹ ہوئی ہے، جو مجموعی انکاری کیسز کا 40 فیصد ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شہر کے تمام اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس موجود ہے، جو انتہائی خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ دنیا میں صرف دو ممالک افغانستان اور پاکستان اب بھی پولیو سے متاثر ہیں۔ پاکستان میں رواں سال 24 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 16 کیسز خیبر پختونخوا سے سامنے آئے، خاص طور پر جنوبی اضلاع جہاں برسوں سے انسدادِ پولیو مہم نہیں چلائی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر انسداد پولیو مہم نہ چلائی جاتی تو ملک میں 24 ہزار بچے معذوری کا شکار ہو سکتے تھے، لیکن مہم کی بدولت یہ تعداد صرف 24 تک محدود رہی۔وفاقی وزیر صحت نے والدین کے خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیو کے قطرے ہی اس بیماری سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہیں، دنیا بھر میں یہ قطرے دیے جاتے ہیں اور کہیں بھی آبادی کم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ:”یہ نہ سیاست ہے نہ ووٹ لینے کی مہم، بلکہ بچوں کو مستقل معذوری سے بچانے کی کوشش ہے۔ والدین کو سمجھانا ہمارا کام ہے، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔”مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ افغانستان میں طالبان بھی انسداد پولیو مہم کی حمایت کرتے ہیں، اور وہاں بچوں کو مساجد میں جمع کرکے قطرے پلائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حج و عمرہ کرنے والے ہر شخص کو بھی یہ قطرے لازمی دیے جاتے ہیں، اس لیے اس حوالے سے پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔انہوں نے والدین کو متنبہ کیا کہ اگر وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلاتے تو اس کے نتائج کے وہ خود دنیا اور آخرت میں ذمہ دار ہوں گے۔