سندھ ہائیکورٹ میں کم عمر لڑکی کے اغوا اور مبینہ جبری شادی کا کیس

سندھ ہائیکورٹ میں کم عمر لڑکی کے اغوا اور مبینہ جبری شادی سے متعلق ایک اور کیس سامنے آیا، عدالت نے لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔تفصیلات کے مطابق متاثرہ لڑکی کوٹری کی رہائشی ہے، جو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئی۔ سماعت کے دوران لڑکی کے والدین نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی بیٹی کی عمر صرف 12 برس ہے، تاہم نکاح نامے میں اس کی عمر 19 برس درج کی گئی ہے۔ اہل خانہ نے لڑکی کی کم عمری کے ثبوت کے طور پر مختلف دستاویزات پیش کرنے کا دعویٰ کیا۔عدالت میں پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں شور شرابہ بھی ہوا اور اہل خانہ نے پولیس کسٹڈی سے لڑکی کو اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔پولیس کے مطابق لڑکی کے اغوا کا مقدمہ جامشورو تھانے میں پہلے ہی درج ہے اور اسی مقدمے کے اندراج کے بعد لڑکی کی شادی کی گئی تھی۔عدالت نے کیس میں مزید شواہد اکٹھے کرنے اور تفتیش آگے بڑھانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ دوسری جانب لڑکی کے بیان اور اہل خانہ کے مؤقف میں تضاد کے باعث معاملہ مزید پیچیدہ صورت اختیار کر گیا ہے۔