اہل افراد کو بیرون ملک جانے سے روکنے کیلئے صوبے میں تعلیم و صحت بہتر بنا رہے ہیں

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گزشتہ 30 برسوں میں صوبے نے نمایاں ترقی کی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے کے اہل اور ہنر مند لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں بیرون ملک جانے کے بجائے یہیں کام کریں۔ مقامی ہوٹل میں سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں سندھ نے بہت کام کیا ہے اور حکومت اس نظام کو مزید مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مل کر اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور ریسرچ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں انڈسٹری کی ضرورت کے مطابق اکیڈمیا اپنا کردار ادا کرتی ہے اور اسی ماڈل کو اپنانا ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے اہل لوگ باہر جانے کے خواہش مند ہوتے ہیں لیکن حکومت چاہتی ہے کہ انہیں صوبے میں وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جو بیرون ملک میسر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت وہ شعبے ہیں جنہیں بہتر کیے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ مراد علی شاہ نے انڈس اسپتال کے ساتھ حکومتی شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی ضرورت پڑی، سندھ حکومت نے اسپتال کی مدد کی۔ انہوں نے بتایا کہ جناح اسپتال گزشتہ 10 برس میں بڑے میڈیکل سینٹر کے طور پر اُبھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال کے لیے 15 ملین ڈالرز کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ یہ 35 ملین ڈالرز کا منصوبہ ہے جس کے تحت جدید ایمرجنسی ٹاور تعمیر کیا جائے گا۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ کی آمد پر چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر طارق رفیع، ڈاکٹر سروش لودھی، سیکریٹری معین خان اور دیگر نے ان کا استقبال کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ احتجاج اور سڑکیں بند کرنا عوام کے لیے مشکلات کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو 27ویں آئینی ترمیم پر اعتراض ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرے، قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے اور آئینی عدالتوں کا قیام وکلاء کا دیرینہ مطالبہ تھا جسے پارلیمنٹ نے پورا کیا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت کم لاگت میں زیادہ منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں، اور یہ سندھ حکومت کی سب سے کامیاب حکمت عملی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 4 دسمبر کو اجلاس ہے تاہم اس کا ایجنڈا ابھی تک نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی قانون میں ترامیم کا مسودہ ابھی ان کے سامنے نہیں آیا، اور جو بھی تبدیلی ہوگی تمام جماعتوں کی مشاورت سے کی جائے گی۔ بلاول بھٹو نے 26ویں اور 27ویں ترمیم میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا۔