کراچی میں سندھ فوڈ اتھارٹی کی ناقص کارکردگی کے باعث صوبے بھر میں غیر معیاری، مضر صحت اور ناقص صفائی میں تیار کردہ اشیائے خور و نوش کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں، جس سے شہریوں کی صحت شدید خطرات سے دوچار ہے۔ اتھارٹی کا قیام خوراک کے معیار کو یقینی بنانے اور شہریوں کو صحت مند خوراک کی فراہمی کے لیے کیا گیا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ نمائشی کاروائیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق اتھارٹی کی جانب سے چند مخصوص علاقوں میں فوٹو سیشن نما چھاپے تو مارے جاتے ہیں، لیکن انسپکشن کا کوئی مربوط اور مؤثر نظام موجود نہیں۔ چھوٹے دکانداروں اور ٹھیلے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ بڑے فوڈ چینز، فیکٹریوں اور ہوٹلوں کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ گندے پانی سے بنی برف، ناقص تیل میں تلی اشیاء اور زائدالمیعاد پروڈکٹس کی فروخت روز کا معمول بن چکی ہے۔ماہرین صحت خبردار کر چکے ہیں کہ اگر خوراک کے معیار پر سختی سے عملدرآمد نہ کیا گیا تو آلودہ اور غیر معیاری خوراک سے جڑی بیماریاں وبائی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ شہریوں نے حکومت سندھ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کا ازسر نو جائزہ لیں، ادارے میں اصلاحات متعارف کرائیں اور اسے ایک فعال، خودمختار اور جواب دہ ادارہ بنائیں تاکہ عوام کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔کرائیں اور اسے ایک فعال، خودمختار اور جواب دہ ادارہ بنائیں تاکہ عوام کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔




