سندھ کا تعلیمی مستقبل علم، اخلاق اور عمدگی پر استوار ہوگا،وزیراعلیٰ سندھ 

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت تعلیم کے شعبے میں عالمی معیار قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور ٹیچنگ لائسنس کا اجرا اس سمت میں ایک انقلابی قدم ہے۔ یہ بات انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں ٹیچنگ لائسنس کی تقسیم اسناد کی تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر مراد علی شاہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ صرف ایک لائسنس نہیں بلکہ مستقبل کے معماروں کو سنوارنے کی بنیاد ہے۔ تعلیم میں بہتری کا آغاز صرف اسکولوں سے نہیں بلکہ معیاری اساتذہ سے ہوتا ہے۔ سندھ میں پہلی بار ٹیچنگ لائسنس ٹیسٹ کا انعقاد اور کامیاب امیدواروں کو اسناد کی تقسیم ایک تاریخی سنگِ میل ہے جس پر صوبائی حکومت کو فخر ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اساتذہ کی لائسنسنگ نہ صرف ایک دور اندیش اور جرات مندانہ فیصلہ ہے بلکہ یہ نظام تعلیم میں شفافیت، قابلیت اور جوابدہی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی اصلاحات کا مرکز استاد ہوتا ہے، اور بغیر استاد کے کوئی تعلیمی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ اس اقدام سے نہ صرف اساتذہ کے وقار میں اضافہ ہوگا بلکہ ان کی کارکردگی بھی بہتر ہو گی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس سال ٹیچنگ لائسنس کے ٹیسٹ میں صرف 16 فیصد امیدوار کامیاب ہو سکے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ حکومت معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تعلیم میں جلد از جلد تبدیلی لانا ہے کیونکہ تعلیم وہ شعبہ ہے جو قوموں کی تقدیر بدلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اسکول سے پہلے گھر سے شروع ہوتی ہے، اور ایک اچھا استاد وہی ہوتا ہے جو اپنے شاگردوں کی کامیابی پر خوشی محسوس کرے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ماضی میں تعلیم کے نظام کو نظر انداز کیا گیا، لیکن اب ہم اصلاحات کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سیاست کوئی پیشہ نہیں، اس لیے اسے لائسنس کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن تعلیم ایک باوقار پیشہ ہے جس میں داخلے کے لیے لازمی معیار اور تربیت ضروری ہے۔ مراد علی شاہ نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ وہ آج بھی اپنے اساتذہ کی اسی طرح عزت کرتے ہیں جیسے اپنے والدین کی، کیونکہ ایک استاد ہی ہے جو کسی کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ سندھ حکومت کا یہ قدم مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک روشن تعلیمی راستے کی طرف پیش قدمی ہے۔