وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی نہ صرف پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے بلکہ تعلیمی و فکری قیادت کا بھی مرکز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر کراچی چلتا ہے تو یہ ملک چلتا ہے، اور جامعہ کراچی اس شہر کا تعلیمی دل ہے۔” یہ بات انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ سماجی بہبود کے زیر اہتمام منعقدہ ایک روزہ کانفرنس “معذور افراد کے لیے پیشہ ور سوشل ورکرز کا کردار” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک وفاق کی تین جامعات کراچی میں قائم ہو چکی ہیں، جب کہ حیدرآباد جیسے تاریخی شہر میں بھی 70 سال بعد ایک یونیورسٹی قائم کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں مزید وفاقی جامعات کے قیام پر بھی کام جاری ہے تاکہ تعلیم کو عوام کی دہلیز تک لایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ ایچ ای سی کے چیئرمین کی تقرری میں تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ حکومت چاہتی تھی کہ اس اہم عہدے کے لیے عالمی سطح پر شفاف اور معیاری انتخاب ممکن ہو، جس کے لیے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اشتہارات دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے لیے اسپیشل گرانٹ کی سمری ارسال کی جا چکی ہے اور جلد اس پر عمل درآمد متوقع ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے بھی سوشل ورک اور معذور افراد کے حقوق پر زور دیا، جبکہ اراکین قومی اسمبلی کشور زہرہ، امین الحق، فرحان چشتی اور وفاقی سرچ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر اورنگ زیب نے بھی تقریب میں شرکت کی۔






