ٹیکس چوری کرنے والے جیولرز کے خلاف ایف بی آر کی کریک ڈاؤن کی تیاری، 60 ہزار کا ڈیٹا اکٹھا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس چوری میں ملوث جیولرز کے خلاف کارروائی کے لیے ملک بھر کے 60 ہزار سے زائد جیولرز کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق زیادہ تر جیولرز اپنی اصل آمدنی کم ظاہر کر کے ٹیکس چھپا رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 60 ہزار میں سے صرف 21 ہزار جیولرز ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جبکہ ٹیکس ریٹرن داخل کرنے والوں کی تعداد محض 10 ہزار 524 ہے۔ ایف بی آر نے اس عدم مطابقت کو مدنظر رکھتے ہوئے چھان بین تیز کر دی ہے۔پہلے مرحلے میں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان کے تاجروں کی فہرست تیار کی گئی ہے، جنہیں نوٹسز جاری کر کے وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔ پنجاب کے 900 جیولرز کو خصوصی طور پر ٹیکس ریٹرنز، خرید و فروخت اور طرزِ زندگی کے فرق پر سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی ہزار جیولرز تاحال ٹیکس نیٹ میں شامل ہی نہیں ہوئے، جبکہ بعض نے اپنی آمدنی کے برعکس انتہائی کم ٹیکس ادا کیا۔ایف بی آر حکام کے مطابق کسی بھی تاجر یا صنعتکار کو بلاوجہ نشانہ نہیں بنایا جائے گا، تاہم ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنے حصے کا ٹیکس ایمانداری سے ادا کرے تاکہ ملکی معیشت مستحکم ہو سکے۔