پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قومی سطح پر انسدادِ سروائیکل کینسر مہم کا آغاز ہوگیا ہے، جس کے تحت 9 سے 14 سال کی بچیوں کو ہیومن پیپلوما وائرس (ایچ پی وی) سے بچاؤ کی ویکسین مفت فراہم کی جائے گی۔ یہ مہم 15 سے 27 ستمبر تک جاری رہے گی۔محکمہ صحت سندھ کے زیرِ اہتمام “صحت مند بیٹی، صحت مند گھرانہ” کے عنوان سے افتتاحی تقریب کراچی کے خاتونِ پاکستان گرلز اسکول میں منعقد ہوئی، جس کا افتتاح صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کیا۔ تقریب میں وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ، زندگی ٹرسٹ کے سربراہ و سماجی رہنما شہزاد رائے، پروجیکٹ ڈائریکٹر ای پی آئی سندھ راج کمار، عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔محکمہ صحت کے مطابق ویکسین سرکاری اسکولوں اور صحت مراکز پر دستیاب ہوگی، اور صرف سندھ میں 41 لاکھ بچیوں کو یہ ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ سروائیکل کینسر خواتین میں سب سے عام اور خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے، جو عموماً دیر سے تشخیص ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ایچ پی وی واحد وائرس ہے جس کے خلاف ویکسین کے ذریعے کینسر سے بچاؤ ممکن ہے۔”سماجی رہنما شہزاد رائے نے زور دیا کہ پاکستان میں ویکسینیشن سے متعلق ابہام اور غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت ہے، اور ایچ پی وی ویکسین بچیوں کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر ای پی آئی سندھ راج کمار کے مطابق یہ کینسر سے بچاؤ کی پہلی ویکسین ہے اور عالمی اداروں کے تعاون سے اس مہم کو مزید وسعت دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ مہم اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سفر کی شروعات ہے۔”






