سندھ میں سرمایہ کاری روکنے کی سازش ناکام بنائیں گے، شرجیل میمن

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ میں سرمایہ کاری کے خلاف سازش کی گئی تاکہ صنعتوں کا انخلا کرایا جا سکے، تاہم حکومت ایسی تمام کوششوں کو ناکام بنائے گی۔کاٹی (کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری) میں اجلاسسےخطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ کچھ لوگ سازش کا شکار ہوکر سندھ چھوڑ گئے، مگر اب حکومت کاروباری طبقے کے مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان ملک کا اثاثہ ہیں، انہیں آنکھوں پر بٹھایا جائے گا۔سینئر وزیر نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو سہولیات دینے سے ہی صنعتکاری میں اضافہ ممکن ہے، صنعت بڑھے گی تو روزگار پیدا ہوگا اور معیشت کا پہیہ چلے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر زراعت کو نظرانداز کیا گیا تو ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پر گندم کی امدادی قیمت مقرر نہیں کی، تاہم سندھ حکومت نے کسانوں کو کھاد اور سبسڈی فراہم کر کے آسانی دی۔شرجیل میمن نے کہا کہ کسان کو سپورٹ پرائس دینے سے وہ گندم کاشت کرے گا، صدر آصف علی زرداری کے دور میں پاکستان نے گندم ایکسپورٹ کی تھی، اور اب بھی وفاق نے پیپلزپارٹی کی اپیل پر امدادی قیمت مقرر کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ صدر زرداری کے حالیہ چین کے دورے میں بڑے صنعت کاروں سے ملاقاتیں ہوئیں، اور سندھ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ نئی صنعتوں کے قیام کے لیے مفت زمین فراہم کی جائے گی۔شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کی سرمایہ کاری پالیسی درست سمت میں گامزن ہے، خیرپور اکنامک زون کو عالمی سطح پر ایوارڈ حاصل ہوا ہے، جبکہ سائبر نائف جیسے علاج کی سہولت کراچی میں مفت فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی نے امراضِ قلب کے علاج میں عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ “میں خود این آئی سی وی ڈی گیا، مجھے بطور مریض انتظار کرنا پڑا — یہی نظام کی شفافیت ہے،” شرجیل میمن نے کہا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دھابیجی اکنامک زون سی پیک کا اہم حصہ ہے، جو بندرگاہ کے قریب واقع ہونے کے باعث سرمایہ کاری کے بڑے مواقع فراہم کرتا ہے۔ٹرانسپورٹ منصوبوں سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن پر اربوں روپے یوٹیلٹی شفٹنگ پر خرچ ہوئے، اور ییلو لائن بی آر ٹی کے 21 کلومیٹر ٹریک کی تعمیر میں بھی مشکلات آسکتی ہیں۔ تاہم اس منصوبے میں کاٹی کے نمائندوں کو سرکاری سطح پر شامل کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کی بڑھتی آبادی ایک بڑا چیلنج ہے، مگر یہ شہر روزگار کے مواقع کے باعث پورے پاکستان کے لیے کشش رکھتا ہے۔ “اگر کراچی اتنا برا ہوتا تو لوگ یہاں آ کر روزگار نہ کرتے،” انہوں نے کہا۔شرجیل میمن نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت خواتین ورکرز کے لیے پنک اسکوٹی مفت فراہم کرے گی، جبکہ اگلے ماہ ڈبل ڈیکر اور دیگر الیکٹرک بسیں بھی متعارف کرائی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے 8 لاکھ گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں، جو دنیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ منصوبوں میں سے ایک ہے۔آخر میں شرجیل میمن نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ وفاق میں اپنے صوبے کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرتے ہیں، اور سندھ حکومت بطور “خادمِ عوام” کام کر رہی ہے۔“1985 سے سندھ کے خلاف منظم سازشیں کی گئیں، مگر ہم ترقی اور خدمت کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”