شہرِ قائد میں مضرِ صحت اور یوریا ملا دودھ فروخت کرنے پر مزید سات دکانیں سیل کر دی گئیں۔ ان میں تین دکانیں ضلع جنوبی، تین شرقی اور ایک ملیر میں واقع ہیں۔انتظامیہ کے مطابق تمام سات دکانوں کے دودھ میں یوریا کی ملاوٹ پائی گئی، جبکہ کمشنر کراچی کے حکم پر ملاوٹ شدہ دودھ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ذرائع کے مطابق ملیر میں واقع دلپسند ڈیری، جو اس سے قبل فارملین ملاوٹ کی وجہ سے سیل کی گئی تھی، کے دودھ میں اب یوریا کی ملاوٹ بھی سامنے آئی ہے۔کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیرِ صدارت اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، حالیہ کارروائیوں کے دوران شہر بھر میں مجموعی طور پر 27 دودھ کی دکانیں سیل کی جا چکی ہیں۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز، ڈی جی فوڈ اتھارٹی اور بیورو آف سپلائی کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹرز رابعہ نے رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ یوریا ملا دودھ انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دودھ کی کوالٹی چیکنگ کی مہم جاری رہے گی، جبکہ سیل کی گئی دکانوں کو بھاری جرمانے اور حلف ناموں کے بغیر ڈی سیل نہیں کیا جائے گا۔ دکانداروں کو ملاوٹ سے پاک دودھ فروخت کرنے کی تحریری یقین دہانی دینا ہوگی۔مزید برآں، اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ بغیر اجازت دکان ڈی سیل کرنے والے دودھ فروش کو گرفتار کیا جائے گا






