کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں 14 فیصد تک کمی آ ئی ہے ، ایڈیشنل آئی جی

ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ شہر میں اسٹریٹ کرائمز میں 14 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کا کریڈٹ جدید ٹیکنالوجی اور پولیس اقدامات کو جاتا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائمز میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور سی سی ٹی وی کیمروں نے کرائم کی بیخ کنی میں انتہائی مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی نے ماضی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “90 کی دہائی میں بدامنی عروج پر تھی، لیکن شہریوں کی قربانیوں اور پولیس کی کوششوں نے حالات بدل دیے۔” انہوں نے بتایا کہ بھتہ خوری کے کیسز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جن میں سے بہت سے معاملات کاروباری لین دین کے تنازعات نکلے۔ بھتہ خوری میں ملوث 5 گینگسٹرز ہلاک اور 40 سے زائد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ شوروم پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث ملزم بھی گزشتہ شب گرفتار ہوا۔ شاہین فورس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ فورس سب سے زیادہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں سرگرم ہے، جہاں موٹر سائیکل پر پولیس اہلکاروں کی رسائی تیز اور مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ پولیسنگ کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت سے مزید موٹر سائیکلوں کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شہر میں وائلنٹ کرائم کی شرح گزشتہ سال کی نسبت 55 فیصد کم ہوئی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے 100 سے زائد خطرناک ملزمان گرفتار کیے گئے، جب کہ ٹریکس سسٹم کی بدولت چالان کے عمل میں شفافیت پیدا ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام مکمل طور پر شفاف ہے، عدالتوں میں بھی اس کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ “میری گاڑی کو بھی چالان ہوا، اور اب میرا ڈرائیور سیٹ بیلٹ لگا کر اسٹاپ لائن پر رکنے کا پابند ہو گیا ہے۔”