پاکستان کے معاشی حب اور روشنیوں کے شہر کراچی میں ایک بار پھر بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے تاجر برادری شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔گولیوں کے ساتھ دھمکی آمیز پرچیاں موصول ہونے کے بعد کراچی چیمبر آف کامرس نے تاجروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور دفاتر و رہائش گاہوں پر جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔تاجروں کی بڑھتی تشویش پر وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی بھی مجرم کو برداشت نہیں کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ بھتہ خوری کے کئی ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ وصی اللہ لاکھو اور عبدالصمد کاٹھیاواڑی کے خلاف کارروائی کے لیے وفاق کو ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔پولیس رپورٹ کے مطابق رواں سال اب تک 118 بھتہ خوری کی شکایات موصول ہوئیں جن میں 44 کیسز بھتہ خوری سے متعلق ثابت ہوئے۔ ان میں سے 39 کیسز حل کرلیے گئے جبکہ 78 ملزمان کی نشاندہی ہوئی، جن میں 43 گرفتار اور 5 پولیس مقابلوں میں مارے گئے۔تاجر تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھتہ خوری کے واقعات پر فوری قابو نہ پایا گیا تو شہر کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں، جس کا اثر ملکی معیشت پر بھی پڑے گا۔دوسری جانب اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU) نے ایک ویب پورٹل بھی قائم کر دیا ہے جہاں تاجر برادری اپنی شکایات درج کرا سکتی ہے، تاکہ فوری کارروائی کی جا سکے۔ماہرین کے مطابق بھتہ خوری پر قابو پانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مربوط حکمت عملی کے تحت کارروائیوں کو مزید سخت بنانا ہوگا تاکہ شہریوں اور تاجروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔






