کراچی میں بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ، 3 روز میں تیسرا کیس سامنے آگیا

کراچی میں بھتہ خوری کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں اور گزشتہ تین روز میں بھتہ طلب کرنے کا تیسرا کیس بھی منظر عام پر آگیا ہے۔ آرام باغ پولیس نے ریسٹورنٹ کے کاروبار سے وابستہ شخص کی مدعیت میں نامعلوم بھتہ خوروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جس میں ملزمان نے رقم کی منتقلی کے لیے ایک نجی بینک کا اکاؤنٹ بھی فراہم کیا ہے۔ سی پی ایل سی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو سال میں شہر میں بھتہ خوری کے 139 واقعات رپورٹ ہوئے۔ سال 2023 میں 50 جبکہ 2024 میں 89 واقعات سامنے آئے۔ سال 2025 میں 30 اکتوبر تک 74 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں جنوری میں 11، فروری میں 4، مارچ میں 9، اپریل میں 5، مئی میں 3، جون میں 7، جولائی میں 5، اگست میں ایک، ستمبر میں 11 جبکہ اکتوبر میں سب سے زیادہ 18 واقعات شامل ہیں۔نومبر کے آغاز میں بھی بھتہ خوری کے تین سنگین واقعات رپورٹ ہوئے جن میں نیو ایم اے جناح روڈ پر ایک تاجر کے شوروم پر فائرنگ، ماربل تاجر کو گولیاں بھیج کر دھمکانا اور اب آرام باغ کے علاقے میں ریسٹورنٹ مالک سے بھتے کی بھاری رقم کا تقاضا شامل ہے۔ تازہ ترین مقدمہ 404/2025 کے مطابق مدعی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ وہ 2022 سے اپنے پارٹنر کے ساتھ اسپائسی خان کے نام سے ریسٹورنٹ چلا رہا ہے۔ 19 نومبر کی رات ساڑھے سات بجے ان کے آفیشل نمبر پر غیر ملکی نمبر سے واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا کہ اُن کی اور اُن کے خاندان کی مکمل نگرانی کی جا رہی ہے، اس لیے اگلے روز تک 20 لاکھ روپے ادا کیے جائیں ورنہ انہیں قتل یا کسی عزیز کو اغوا کرلیا جائے گا۔مدعی کے مطابق بھتہ خور مسلسل وائس نوٹس اور میسجز بھیجتا رہا اور بات چیت کے دوران 20 لاکھ روپے کم کرتے کرتے پہلے 5 لاکھ اور پھر 3 لاکھ روپے تک آ گیا، ساتھ ہی حیدر خان کے نام سے ایک نجی بینک کا اکاؤنٹ بھی بھیجا گیا۔ متاثرہ شخص نے پولیس کو بتایا کہ اسے اور اس کے گھر والوں کو جان کا شدید خطرہ ہے اس لیے قانونی کارروائی کی جائے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے کیس کو مزید تفتیش کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے حوالے کر دیا ہے۔شہر میں بڑھتی ہوئی بھتہ خوری کے باعث تاجر برادری میں خوف کی فضا برقرار ہے، جبکہ اکثر کاروباری افراد دھمکیوں کے باوجود مقدمہ درج نہیں کرواتے اور پولیس کو اطلاع دیے بغیر بھتہ خوروں سے معاملات طے کر کے جان چھڑانے کو ہی محفوظ راستہ سمجھتے ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے