ہمارے علم میں آیا ہے کہ بعض افراد غیر مصدقہ ویڈیوز اور افواہیں پھیلا رہے ہیں جو ایچ پی وی ویکسین کے بارے میں بلاوجہ خوف پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ ہم سب کو سمجھنا چاہیے کہ ایسی باتیں درست نہیں ہیں اور سائنسی حقائق پر مبنی نہیں ہوتیں۔ایچ پی وی ویکسین مکمل طور پر محفوظ اور مؤثر ہے۔ یہ ویکسین عالمی ادارہ صحت (WHO)، یونیسف اور دنیا کے بڑے ماہرین صحت کی جانب سے باقاعدہ تسلیم شدہ ہے۔ اب تک 144 سے زیادہ ممالک میں لاکھوں لڑکیوں کو یہ ویکسین دی جا چکی ہے، جس سے انہیں سروائیکل کینسر اور ایچ پی وی سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں سے بچاؤ ملا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ کئی مسلم ممالک بھی اپنی بیٹیوں کی حفاظت کے لیے یہ ویکسین استعمال کر رہے ہیں۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ملیشیا، انڈونیشیا، ترکمانستان، ازبکستان اور لیبیا جیسے ممالک نے اس ویکسین کو اپنی قومی حفاظتی ٹیکہ جات مہم میں شامل کر رکھا ہے۔سندھ میں ہمارا ہدف 9 سے 14 سال کی بچیاں ہیں، کیونکہ تحقیق کے مطابق اسی عمر میں یہ ویکسین سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے اور عمر بھر کے لیے مضبوط حفاظت فراہم کرتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ویکسین لگانے سے خواتین کو ایک بڑی اور جان لیوا بیماری، یعنی سروائیکل کینسر سے بچایا جا سکتا ہے۔ہم والدین اور عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ صحت سے متعلق معلومات ہمیشہ صرف مستند ذرائع جیسے محکمہ صحت، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسف سے حاصل کریں۔ غیر مصدقہ ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں پر یقین کرنے سے گریز کریں۔اپنی بیٹیوں کو قابلِ بچاؤ بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ آئیے، مل کر ایک صحت مند اور محفوظ مستقبل کی ضمانت دیں۔






