جماعت اسلامی کراچی نے شہر کے بگڑتے حالات کے خلاف 31 اگست بروز اتوار کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے ’حقوق کراچی‘ مارچ کرنے کا اعلان کر دیا۔امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں کے بعد کراچی کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور پورا شہر مسائل کی دلدل میں دھنس چکا ہے، لیکن حکمرانوں کو شہریوں کی مشکلات کی کوئی پرواہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ بارش ہوتے ہی پورے شہر کے گٹر ابلنے لگتے ہیں اور کوئی ادارہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے موجود نہیں ہوتا۔ کریم آباد انڈر پاس کو دو سال میں مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن آج تک منصوبہ مکمل نہیں ہوا، انڈر پاس پانی سے بھرا ہوا ہے اور دکاندار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔منعم ظفر نے شہر کے دیگر مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عباسی شہید اسپتال میں پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز اور ہاؤس آفیسرز چار ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہو کر احتجاج کر رہے ہیں، مگر سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو نالوں کی صفائی کے لیے خط لکھا تھا تاکہ اربن فلڈنگ سے بچا جا سکے، لیکن اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عوام کے حقوق کے لیے اب خاموش رہنا ممکن نہیں، 31 اگست کو دوپہر 3 بجے کراچی پریس کلب سے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کیا جائے گا۔






