گرمی اور لوڈشیڈنگ نے کراچی والوں کو بلبلا دیا، کے الیکٹرک کے خلاف شدید غم و غصہ

شہر قائد میں شدید گرمی کے ساتھ جاری اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ علاقے پریڈی، رتن تلاب، اردو بازار اور ملحقہ آبادیوں میں روزانہ 10 سے 11 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جس سے عوام شدید اذیت کا شکار ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقے میں گزشتہ 10 سال سے کبھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی، ہم 100 فیصد بل دیتے ہیں، پھر بھی اچانک کے الیکٹرک نے 10 سے 11 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ شروع کر دی ہے۔ شہریوں نے شکایت کی کہ غیر اعلانیہ بجلی بندش سے نہ صرف گھریلو کام متاثر ہو رہے ہیں بلکہ کاروبار بھی ٹھپ ہو گئے ہیں۔ سب سے سنگین مسئلہ پانی کا ہے۔ پانی کی فراہمی کے اوقات میں بجلی بند ہونے کے باعث علاقے میں پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک حکام شہریوں کی شکایات سننے کو تیار نہیں، فون کالز اور شکایات کا کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ شہریوں نے وارننگ دی ہے کہ اگر فوری طور پر بجلی بحال نہ کی گئی تو وہ ایم اے جناح روڈ پر بھرپور احتجاج کریں گے۔