ابراہیم حیدری میں مچھلی کی گاڑیوں پر ڈکیتیوں میں اضافہ

کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری میں مچھلی کے بیوپاریوں اور گاڑیوں سے لوٹ مار کے واقعات میں خطرناک اضافہ ہوگیا ہے، جس سے مقامی ماہی گیر اور تاجر شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔مقامی ماہی گیروں کے مطابق شجرہ پمپ سے لے کر فِش فیکٹریز تک مچھلی لانے والی گاڑیوں کو راستے میں روک کر لوٹنے کے درجنوں واقعات پیش آچکے ہیں۔رپورٹس کے مطابق 20 سے 25 افراد پر مشتمل مسلح ٹولے راستے میں گاڑیاں روک کر عملے کو زدوکوب کرتے ہیں اور زبردستی شکار کی گئی مچھلیاں اتار لیتے ہیں۔ ان وارداتوں کے باعث تاجروں کو لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ عملے کی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ شجرہ پمپ سے لے کر فِش فیکٹریز تک کے علاقے میں یہ واقعات معمول بن چکے ہیں، اور ابراہیم حیدری کے ساحلی راستے مکمل طور پر غیر محفوظ ہوچکے ہیں۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں، مستقل پولیس گشت اور چوکیوں کا قیام عمل میں لایا جائے، جبکہ مچھلی کی گاڑیوں کو تحفظ دینے کے لیے پولیس نفری اور موبائل گشت میں اضافہ کیا جائے۔مقامی ماہی گیروں نے مزید کہا کہ حملوں کی رپورٹس پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے اور ملوث ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔