سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کی کارروائی، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد گرفتار

سی ٹی ڈی سندھ اور وفاقی حساس ادارے نے خفیہ اطلاع پر مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے شہر میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے دو نائن ایم ایم پستول اور دو ہینڈ گرینیڈز بھی برآمد کیے گئے۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے ایس ایس پی عرفان علی بہادر اور ایس پی ملک سنکھار کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ کراچی میں حالیہ فرقہ وارانہ وارداتوں کے بعد مجموعی طور پر 32 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں کئی اہم گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ان کے مطابق گرفتار دہشت گردوں کی شناخت اسرار حسین گلگتی ولد ابرار حسین اور معصوم رضا عرف عامر اللہ عرف عمران موٹا ولد مرزا انور علی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق کالعدم زینبیون بریگیڈ سے ہے۔ڈی آئی جی غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں قاری انس رحمان اور قاری عبدالرحمان کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معصوم رضا عرف عامر اللہ ریڈ بک میں درج مطلوب دہشت گرد ہے جو بیرون ملک سے ہدایات اور مالی معاونت حاصل کرتا رہا۔سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی رابطوں اور شہری سہولت کاروں کے نیٹ ورک کا بھی انکشاف کیا ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف دہشت گردی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مزید ساتھیوں کی تلاش جاری ہے، جبکہ شہر میں فعال دیگر سلیپر سیلز کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گرفتار دہشت گردوں نے قاری انس رحمان کو ٹریپ کرنے کے بعد قتل کیا اور اس کے اکاؤنٹ میں 60 ہزار روپے منتقل کیے تھے تاکہ اسے جال میں پھنسایا جا سکے۔سی ٹی ڈی کے مطابق ملزمان کرایہ پر دستیاب اسلحہ استعمال کرتے اور واردات کے بعد اسے مخصوص ٹھکانوں پر چھپا دیتے تھے۔ادارے نے ان ٹھکانوں کا سراغ لگا لیا ہے اور مزید کارروائیاں جاری ہیں۔