صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ کراچی میں ای چالان سسٹم باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے، اور اگر گاڑی کی اونر شپ تبدیل نہیں کی گئی تو چالان اسی شخص کے نام پر جاری ہوگا جس کے نام پر گاڑی رجسٹرڈ ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ سندھ نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام “باخبر سویرا” میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ای چالان سسٹم کے لیے 10 ہزار کے قریب کیمرے شہر بھر میں نصب کیے گئے ہیں، جبکہ سیف سٹیز منصوبے کے تحت جدید نائٹ وژن کیمرے بھی مختلف مقامات پر لگائے جا رہے ہیں۔ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تین تلوار کے مقام پر افتتاح کے دوران بھی سگنل توڑنے کے واقعات دیکھے گئے جن پر فوری چالان کیے گئے۔ ان کے مطابق ای چالان سسٹم سے ٹریفک نظم و ضبط میں نمایاں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کے لیے اپیل کا حق بھی رکھا گیا ہے، اور اس مقصد کے لیے 11 مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں ایس ایس پی اور دو ڈی ایس پی شہریوں کی شکایات اور درخواستوں کا جائزہ لیں گے۔وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ ہیوی ٹریفک کے لیے رفتار کی حد 30 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے، جب کہ مختلف سڑکوں پر ٹریفک سائن بورڈز نصب کیے جا رہے ہیں۔اس موقع پر ضیا الحسن لنجار نے محمد عرفان کی پولیس حراست میں ہلاکت سے متعلق کہا کہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے لیے 30 دن کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، اور یہ انکوائری سیشن جج ساؤتھ کریں گے۔ اگر بچے کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو والدین کی مدعیت میں ایف آئی آر درج ہونی چاہیے، اسی لیے معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا گیا ہے۔






