سندھ ہائیکورٹ میں بیٹے کو بہانے سے ایران لے جانے کے معاملے پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کو حکم دیا کہ 10 سالہ بچے اور اس کے والد کی موجودگی کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔ درخواست گزار فرح ظفر نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے شوہر مرزا ظفر الحسن نے میاں بیوی کے جھگڑے کے بعد بہانہ بنا کر 10 سالہ بیٹے مرزا اظفر بیگ کو ایران منتقل کر دیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ شوہر نے بچے کو اغوا کرکے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک لے جایا۔ درخواست گزار کے وکیل سہیل حمید ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے 8 ستمبر کو مرزا ظفر الحسن اور بچے کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا، مگر وزارتِ داخلہ نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا۔ عدالت نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وفاقی وزارتِ داخلہ کا طرزِ عمل کسی طرح قابلِ تعریف نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل نہ ہوا تو متعلقہ افسران کیخلاف کارروائی ہوگی۔ مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی گئی ہے۔






