کراچی کے عوام کو پانی فراہم کرنے والے بڑے منصوبے “کے فور” میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2022-23 کی رپورٹ کے مطابق، پمپنگ اسٹیشنز کے دو بڑے ٹھیکے اصل لاگت سے کہیں زیادہ قیمت پر دیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق، ایک ٹھیکا نجی کمپنی کو 15 ارب 39 کروڑ روپے میں دیا گیا، حالانکہ اس کی تخمینہ لاگت صرف 10 ارب 24 کروڑ روپے تھی۔ اسی کمپنی کو دوسرا ٹھیکا 15 ارب 84 کروڑ روپے میں دیا گیا، جبکہ اس کا تخمینہ 8 ارب 94 کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔ آڈٹ رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا کہ دونوں ٹھیکے انجینئرز کی لاگت، پی سی ون کی منظوری اور سرکاری قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی پر دیے گئے۔ ایسے غیر منصفانہ اور بلاجواز معاہدوں کو مسترد کیا جانا چاہیے تھا، مگر جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا۔ یہ انکشاف کراچی کے عوام کے لیے ایک بڑا سوال چھوڑتا ہے: کیا پانی کی فراہمی سے پہلے ہی قومی وسائل کا ضیاع ہو چکا ہے؟





