گریٹر کراچی پلان 2047ء، بڑھتی آبادی کے دباؤ کے پیشِ نظر جامع ماسٹر پلان کی ضرورت

شہر قائد پر بڑھتی ہوئی آبادی کا دباؤ منصوبہ بندی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس کے پیش نظر حکومت سندھ ایک نئے ماسٹر پلان پر کام کر رہی ہے، جسے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047ء کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق شہر کی منصوبہ بندی کے لیے آبادی میں اس تیزی سے اضافہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی کی آبادی قیامِ پاکستان سے اب تک 44 گنا بڑھ چکی ہے۔ قیام پاکستان تک کراچی کی آبادی ساڑھے 4 لاکھ تھی، جو اب 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ 2017ء سے 2023ء کے درمیان صرف 5 سال میں کراچی کی آبادی میں 40 لاکھ کا اضافہ ہوا، جس کے بعد 2023ء میں یہ ایک کروڑ 88 لاکھ تک پہنچ گئی۔ کوریا گرین گروتھ ٹرسٹ فنڈ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کراچی میں سالانہ آبادی کی شرح اضافہ 6 فیصد ہے، جبکہ ملک میں مجموعی شرح 1.5 فیصد ہے۔ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2030ء تک کراچی کی آبادی 28 ملین تک پہنچ جائے گی۔ ماہر شہری منصوبہ بندی زاہد فاروق کے مطابق کراچی میں بڑھتی آبادی کی بڑی وجہ ملک کے دیگر حصوں اور بیرونِ ملک سے روزگار کے لیے آنے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ لوگ اپنے علاقوں میں رہیں۔ زاہد فاروق نے مزید کہا کہ ماضی میں کراچی کے لیے مختلف ماسٹر پلان بنائے گئے لیکن سیاسی وجوہات کی بنا پر ابھی تک کوئی بھی پلان عملی طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے زور دیا کہ گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047ء کو صرف ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر نہیں بنایا جانا چاہیے بلکہ اس پر عوامی رائے بھی لی جانی چاہیے اور سندھ اسمبلی، سٹی کونسل، یونین کونسل، ڈاکٹروں، وکلا اور بزنس کمیونٹی سمیت مختلف شعبوں کی مشاورت ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر وقار مہدی کے مطابق نیا پلان عالمی اداروں کے ماہرین کی نگرانی میں تیار کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ 50 سال کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے شہر کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جا سکے۔ واضح رہے کہ پاکستان بننے کے بعد کراچی کے لیے مختلف ادوار میں ماسٹر پلان بنائے گئے، جن میں گریٹر کراچی پلان 1952ء، کراچی ڈیولپمنٹ پلان 1974-1985ء اور کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020ء شامل ہیں، لیکن آج تک کوئی بھی پلان مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔اس وقت شہر کے انتظامی کنٹرول میں حکومت سندھ کے علاوہ 6 کنٹونمنٹ بورڈز، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، پورٹ قاسم، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل ملز، اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون جیسے وفاقی ادارے شامل ہیں، جبکہ صرف 31 فیصد کنٹرول کے ایم سی کے پاس ہے۔